چھے لاکھ ادا کریں، سوائن فلو سے وفات پانے والی بچی کی لاش لیجائیں

سعودی عرب میں نجی شفاخانے کا انوکھا مطالبہ

نشر في:

سعودی عرب کے شہر مکہ المکرمہ میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم کو ایک غیر ملکی تارک وطن نے جدہ کے ایک نجی ہسپتال کے خلاف شکایت کی ہے۔
شکایت گذار کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے اس سے ایک تحریری معاہدے پر زبردستی دستخط کرائے ہیں جس کے تحت وہ ہسپتال کو دو مہنیوں کے اندر چھے لاکھ سعودی ریال ادا کرنے کا پابند ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے تارکین وطن کی بیٹی کی نعش چھے لاکھ سعودی ریال ادا کئے بغیر لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مرحومہ سوائن فلو کے مرض میں مبتلا تھی۔

تنظیم کے عمومی نگران نے بتایا کہ تارک وطن کی شکایت پر ہم نے جدہ میں تنظیم کی صحت امور شاخ کو معاملے کی تفتیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کہا کہ سوائن فلو میں مبتلا افراد یا اس مرض کی وجہ سے وفات پانے والوں کے علاج معالجہ سرکاری خرچ پر کرایا جاتا ہے اور ایسے مریض یا متوفی کے لواحقین سے کسی قسم کا معاوضہ طلب کرنا حکومت کی صحت پالیسی میں درج رہ نما اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق تنظیم کی مکہ شاخ کے عمومی نگران ڈاکٹر حسین الشریف نے العربیۃ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نعش کو قبضے میں لیکر لواحقیں سے علاج معالجے کا معاوضہ لینے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ کسی بھی سرکاری یا نجی شفا خانے کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ متوفی کے پریشان حال لواحقیں کو نعش قبضے میں لیکر بل ادائی کے لئے بلیک میل کر سکے۔

انہوں نے بتایا کہ سوائن فلو کے مریضوں کے علاج کے لئے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ویکسین سرکاری خرچ پر فراہم کی جا رہی ہے، اس لئے کسی شفاخانے کو مریضوں یا ان کے لواحقیں کو پریشان کرنے کا کوئی شرعی یا قانونی جواز نہیں ہے۔