طیارہ بم سازش کیس میں تین برطانوی مسلمانوں کوعمرقید کی سزائیں

جج نے طیارہ سازش کو نائن الیون حملوں سے بڑامنصوبہ قراردے دیا

نشر في:

برطانیہ میں ایک عدالت نے مائع بموں سے بین الاقوامی پروازوں کو اڑانے کی سازش تیار کرنے کے جرم میں تین برطانوی مسلمانوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں جن کی مدت بتیس سال سے چالیس سال کے درمیان ہوگی.

جنوب مشرقی لندن کی وول وچ کراٶن کورٹ کے جج رچرڈ ہنریکوئز نے اپنے فیصلہ میں قراردیا ہے کہ ''عدالت کے دائرہ کار میں اب تک ثابت شدہ سازشوں میں سے یہ سب سے سنگین اور ظالمانہ سازش تھی''.

جج نے کہا کہ ''ملزم دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعہ کی منصوبہ بندی کررہے تھے جس کا تاریخ میں ان کے بہ قول گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعات کے ساتھ ذکر ہوتا''.

عدالت نے دوران پروازمسافرطیاروں کوبموں سے اڑانے کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہ کے مبینہ سرغنہ اٹھائیس سالہ عبداللہ احمدعلی کو عمر قید کی سزاسنائی ہے جس کی کم سے کم مدت چالیس سال ہوگی.

اس سازش کے مبینہ'' کیمسٹ اور کوارٹر ماسٹر''انتیس سالہ اسدسرور کو چھتیس سال،ان کے تیسرے ساتھی اور عبداللہ علی کے دست راست اٹھائیس سالہ تنویرحسین کو بتیس سال جیل میں گزارنا ہوں گے.

طیاروں کو بموں سے اڑانے کی یہ مبینہ سازش اگست 2006ء میں ناکام بنائی گئی تھی اور اس کے بعد تجارتی پروازوں میں مائع موادلے کر سوار ہونے کے لئے نئے قواعدوضوابط وضع کئے گئے تھے.

کروڑوں ڈالرزمالیت کا آپریشن

لندن سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی کے اس مبینہ بڑے منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے پانچ کروڑ اسی لاکھ ڈالرز لاگت آئی تھی اور یہ برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کی سب سے مہنگی کارروائی تھی.

جج ہنریکویز کا کہنا تھا ''اس امر کا بہت زیادہ امکان تھا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا لیکن پولیس اور سکیورٹی سروس کی مداخلت سے اس کو ناکام بنادیا گیا.اگریہ سازش پایہ تکمیل کو پہنچ جاتی توبڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوتا اوراگر برسرزمین دھماکے کئے جاتے تو مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی''.

اس سازش کے منصوبہ سازوں نے مبینہ طور پر لندن کے ہیتھروائیرپورٹ سے نیویارک،واشنگٹن، شکاگو،سان فرانسسکو ،ٹورنٹو اور مونٹریال جانے والے سات مسافر طیاروں کو دوران پروارنشانہ بنانا تھا.

پراسکیوٹرز کا کہنا تھا کہ جن طیاروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا جانا تھا،وہ یونائیٹڈ ائیرلائنز، امریکن ائیرلائنز اور ائیر کینیڈا کے ملکیتی تھے اور انہیں ایک ہی وقت میں بموں سے اڑانے کی سازش تیار کی گئی تھی.

جج ہنریکویزنے اپنے فیصلہ میں قراردیا کہ ''یہ سازش انتہا پسندانہ اسلامی سوچ سے متاثرہ انتقامی ذہنیت کے تحت تیار کی گئی تھی جوعراق اور افغانستان میں متعدد حکومتوں اور اتحادی فورسزکی موجودگی کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی''.

جج کا مزید کہناتھا کہ ''اس سازش کے پکڑے جانے کے بعد سے دنیا بھر میں پروازوں پر سخت سکیورٹی انتظامات دیکھنے میں آرہے ہیں اورمسافروں پرمائع مواد اپنے ساتھ لے جانے کے لئے نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں''.

پاکستان سے کنٹرول

جج نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے:''ای میلز کے جائزے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس سازش کو پاکستان سے کنٹرول کیا اور چلایا جارہا تھا،اس کی وہیں سے نگرانی کی جارہی تھی اور وہیں سے اس کے لئے رقوم فراہم ہورہی تھیں''.

طیارہ سازش کیس کی چھے ماہ تک سماعت کی جاتی رہی ہے.عدالت میں پیش کی گئی مبینہ دستاویزات اور شواہد کے مطابق اس گینگ کے پاکستان میں القاعدہ کی مبینہ شخصیات کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کے درمیان باہمی ربط وتعلق برقرارتھا.

واضح رہے کہ عدالت نے سات ستمبر کو عبداللہ احمد علی،سرور اور حسین کو بین البراعظمی پروازوں کو بموں سے اڑانے کی سازش تیار کرنے کے مقدمہ میں قصوروار قراردیا تھا.

اس مقدمے میں ایک چوتھے شخص اکتیس سالہ عمر اسلام کو قتل کی سازش تیارکرنے اوردوسرے عمومی الزامات پر قصوروارٹھہرایا گیا تھا.اسے کم سے کم بائیس سال قید کی سزاسنائی گئی ہے.

پراسکیوٹرز اس مقدمے میں قصوروار نہ ٹھہرائے جانے والے تین افراد کے خلاف تیسرے ٹرائل کی کوشش کررہے ہیں اور ان تین افراد..... اٹھائیس سالہ ابراہیم سوانت ،اٹھائیس سالہ عرفات وحید خان اور پچیس سالہ وحید زمان....... کے خلاف مقدمات کی سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے.

سوراخ والی بوتلیں

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ گروہ نے مشروبات کی پلاسٹک والی بوتلوں میں سوراخ کر کے ان میں سرنجوں کے ذریعے مائع موادبھرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے بعد انہوں نے ان سوراخوں کو گلیو کے ساتھ بند کردینا تھا.اس صورت میں بوتلوں کے ڈھکن بالکل بند رہتے.

گھریلو ساختہ مواد ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور ٹینگ کے آمیزے سے تیار کیا جانا تھا.ٹینگ ایک نرم مشروب ہے جو پاٶڈر کی شکل میں بھی مارکیٹ میں عام دستیاب ہے.ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کو اگر ایک مناسب مقدارمیں نامیاتی مواد کے ساتھ ملایا جائے تو اس میں دھماکا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے.

عدالت کو بتایا گیا کہ مائع بموں والی ان بوتلوں کو ریگولراے اے 1.5 وولٹ کی بیٹریوں میں چھپائے گئے ایچ ٹی ایم ڈی سے اڑایا جانا تھا اور ڈیٹونیٹرزکو لوہے کے ایک تار یا ایک چھوٹے بلب سے سلگایا جانا تھا.جج ہنریکویزنے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ گینگ بجلی کی تنصیبات سمیت بعض دوسرے اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا.