صومالی القاعدہ گروپ کا امریکی کارروائی کا بدلہ لینے اعلان

امریکی حملے میں القاعدہ کے سنئیر رکن سمیت کم سے کم 10 کمانڈروں کی ہلاکت

نشر في:

صومالیہ کے سخت گیر اسلامی جنگجو گروپ الشباب نے امریکی فوج کے حملے میں القاعدہ کے ایک سنئیر رہ نما سمیت کم سے کم دس جنگجوٶں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے.

ایک امریکی عہدے دار نے منگل کے روزاپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرحملے میں مارے گئے کینیائی نژاد القاعدہ کے سنئیر رکن کا نام صالح علی صالح نبہان بتایا ہے جو 2002ء میں ممباسا میں ایک ہوٹل اور ایک اسرائیلی طیارے پر حملے میں مطلوب تھے.

امریکی میڈیا کے مطابق صالح نبہان سوموار کو علی الصباح صومالیہ کے جنوب میں امریکی ہیلی کاپٹر کے القاعدہ کے قافلے پرحملے میں مارے گئے ہیں.ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے قریب امریکی بحریہ کا ایک جہاز بھی صورت حال کی نگرانی کے لئے موجود تھا اور ضرورت پڑنے پر مدد دینے کو تیار کھڑا تھا.

الشباب کے ایک سنئیررہ نمانے کہا ہے کہ ''مسلمان اس اشتعال انگیز حملے کا جواب دیں گے.امریکا اسلام کا جانا پہچانا دشمن ہے اور ہم اس سے کسی قسم کے رحم کی توقع نہیں کرتے اور نہ انہیں ہم سے رحم کی کوئی توقع رکھنی چاہئے''.

الشباب کے رہ نمانے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''ہم اس معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں،اگراس حملے میں کسی صومالی مرد یا عورت نے حملہ آوروں کی مدد کی ہے تو اسے بھی اللہ کے فیصلے کا سامنا کرنے پڑے گا''.

جس علاقے میں النبہان اور ان کے ساتھیوں پر امریکیوں نے حملہ کیا ہے،یہ الشباب کے کنٹرول میں ہے.الشباب کے موجودہ سنئیر کمانڈروں میں بیشترنے افغانستان میں فوجی تربیت حاصل کی تھی اور ان کے القاعدہ کے ساتھ روابط استواررہے ہیں.امریکا اس بات پر تشویش کا اظہار کرچکا ہے کہ الشباب تنظیم صومالیہ کو جنگجوٶں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا سکتی ہے.

مغربی سکیورٹی ذرائع کے مطابق صالح نبہان سمیت چھے غیر صومالی جنگجو سوموار کی صبح ایک گاڑی میں سوار ہوکرساحلی شہر مرکا کے قریب سفر کررہے تھے اور ان کے ساتھ ایک اور گاڑی بھی تھی جس پرالشباب کے تین جنگجو سوار تھے.

وہ الشباب کے مضبوط گڑھ جنوبی شہر کسمایو کی جانب جارہے تھے کہ اس دوران وہ سحری کھانے کے لئے ایک جگہ رکے جہاں ان کی گاڑیوں پرایک یا متعدد گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی گئی.ذرائع کے مطابق حملے میں مارے گئے افراد کی لاشیں بھی ہیلی کاپٹروں پرسوار فوجی اپنے ساتھ شناخت کے لئے گئے ہیں.

صومالی حکومت کے ایک سنئیر عہدے دار نے موغادیشو میں میڈیا کو بتایا ہے کہ القاعدہ کے مشتبہ رکن دارالحکومت سے دوسوپچاس کلومیٹر جنوب میں واقع ضلع باراوے کے گاٶں روبوکے قریب دوسرے جنگجوٶں کے ہمراہ ایک کار پر سوارکہیں جارہے تھے کہ اس دوران انہیں نشانہ بنایا گیا.انہوں نے حملے میں صالح نبہان سمیت پانچ جنگجو کمانڈروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے.

صومالی حکومت کے اس عہدے دارکا کہنا ہے کہ ''ان نوجوان جنگجوٶں میں غیر ملکی فضائی حملے سے بچنے کے لئے اتنی صلاحیت نہیں تھی جتنی ان کے افغانستان میں موجود ساتھی جنگجوٶں میں ہے''.عینی شاہدین نے غیرملکی ہیلی کاپٹر کے حملے میں ایک گاڑی کے تباہ ہونے اور اس میں سوار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے.

ضلع باراوے کے ایک اور گاٶں کے عبدالناصرمحمد عدن نامی ایک عمر رسیدہ شخص نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایاہے کہ ''ایرل گاٶں میں فوجی کارروائی میں چار غیر ملکی کاپٹروں نے حصہ لیا ہے.حملے میں جنگجوٶں کی کار تباہ ہوگئی اور ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ بعض کارسواروں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں سے لے جایا گیا ہے''.

اٹھائیس سالہ صالح علی صالح 2002ء میں کینیا کے شہر ممباسا کے ائیرپورٹ سے اڑان بھرتے ایک اسرائیلی طیارے پر میزائل حملے اور ایک ہوٹل میں بم دھماکے کے سلسلہ میں امریکا کو مطلوب تھے.