جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:08 - GMT 10:08

ایران سے جوہری ایندھن کا معاہدہ دسمبر کے آخر تک متوقع ہے: البرادعی

ایران کے خلاف نئی پابندیوں پر غور کے لئے عالمی طاقتوں کا اجلاس

جمعہ 03 ذی الحجہ 1430هـ - 20 نومبر 2009م
آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے اس سے ایران کا رویہ اور سخت ہو جائے گا. فائل
آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے اس سے ایران کا رویہ اور سخت ہو جائے گا. فائل
برلن.ایجنسیاں

دنیا کی چھے بڑی طاقتوں نے ایران کی جانب سے جوہری ایندھن کے مجوزہ معاہدے کو مسترد کرنے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کے لئے برسلز میں ایک اجلاس میں نئے اقدامات پر غور کیا ہے.

امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ روز ایران کو مجوزہ معاہدے کو مسترد کرنے پراس کے مضمرات سے نمٹنے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان.....امریکا، برطانیہ، فرانس ، روس، چین ....... اور جرمنی کے نمائندوں کا برسلز میں جمعہ کے روز بند کمرے کا اجلاس ہوا ہے.

حکام نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ چھے بڑی طاقتیں ایران کے مجوزہ معاہدے کے جواب میں کیا رد عمل ظاہر کریں گی.البتہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ''اجلاس میں صرف ایران کے جوہری ایشو کے حوالے سے ہونے والی تازہ پیش رفت پر غور کیا جا رہا ہے''.

درایں اثناء جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے ایران کا رویہ اور بھی سخت ہو جائے گا.

آئی اے ای اے کے سربراہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی افزودہ یورینیم کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے لئے معاہدہ اس سال کے آخر تک طے پا جائے گا.

محمد البرادعی نے برلن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:''یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ہم پابندیوں اور محاذ آرائی سے اعتماد کی بحالی کے عمل کی جانب آگے بڑھیں''.انہوں نے کہا کہ ''میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ اس وقت بال ایرانی کورٹ میں ہے اور مجھے توقع ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہیں کریں گے''.

ادھر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایک مرتبہ پھر امریکا کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے. انہوں نے ایک نشری تقریر میں کہا کہ''اگر ہماری قوم نے دیکھا کہ انہوں نے اپنا رویہ تبدیل کر لیا ہے اور متکبرانہ رویے کو خیرباد کہہ دیا ہے ،ایرانی قوم کو اس کے حقوق اور اثاثے لوٹا دئیے ہیں تو قوم اس کو قبول کر لے گی''.

یاد رہے کہ امریکا نے 1979ء میں تہران میں اسلام پسند جنگجوٶں کے اپنے سفارتخانے پر حملے کے بعد ایرانی حکومت کے اثاثے منجمد کر دئیے تھے.ایرانی طلبہ کے ایک گروہ نے امریکا کے سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا جس کے بعد 1980ء میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے جو تاحال بحال نہیں ہوئے.

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف ''انعام اور سزا'' کی ملی جلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے. وہ ایران کو اس کے جوہری تنازعے کے سفارتی ذرائع سے حل کے لئے مذاکرات کی بھی پیش کش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوتا تو اس پر نئی پابندیاں عاید کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں.

ایران اقوام متحدہ کی جانب سے تین مراحل میں پابندیاں عاید کئے جانے کے باوجود یورینیم کی افزودگی کا عمل معطل کرنے کو تیار نہیں. اس نے ستمبر میں قم شہر کے قریب ایک پہاڑ میں یورینیم افزودگی کے ایک نئے پلانٹ کا انکشاف کیا تھا جس پر مغربی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے.

ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جوہری تنازعے پر مزید بات چیت کے لئے تیار ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ تہران کے ری ایکٹر کے لئے یورینیم کے بدلے میں ایندھن لینے کی تجویز پر غور کرنے کو بھی تیار ہے.لیکن آئی اے ای اے اس سے پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ اس قسم کا تبادلہ مغربی طاقتوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا.

واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک اب ایران کو جوہری تنازعے کے حل میں تاخیرکے لئے مزید وقت دینے کو تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے جبکہ ایران مذاکراتی عمل سے متعلق نیک جذبے کا اظہار نہیں کر رہا ہے.