فلسطینی صدر محمود عباس نے جنوری میں ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے التوا کی توثیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے انتخابات کو ملتوی کرنے کے لئے سفارش قبول کر لی ہے.
بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی قیادت موجودہ قانون ساز اسمبلی اور صدر کی مدت پوری ہونے کے بعد آئینی خلا سے بچنے کے لئے اقدامات کرے گی.تاہم انہوں نے ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی.
محمود عباس کی بطور صدر آئینی مدت 25 جنوری کو ختم ہو گی.انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ دوسری مدت کے لئے صدر بننے کے خواہاں نہیں. اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ وہ چوبیس جنوری کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں گے.
جمعرات کو نشر ہونے والے انٹرویو میں فلسطینی صدر نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد ہونے تک مذاکرات بحال نہیں کئے جائیں گے.انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت امن نہیں چاہتی اور امریکی حکومت نے بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لئےمناسب اقدامات نہیں کئے.
فلسطین کے مرکزی الیکشن کمیشن نے گذشتہ ہفتے صدر محمود عباس کو تجویز دی تھی کہ جنوری میں ہونے والے انتخابات ملتوی کر دئیے جائیں کیونکہ غزہ کی حکمران حماس نے اپنے تحت علاقے میں انتخابات کرانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا.
فلسطینی صدر نے کہا کہ ''ہمارے لئے بہتر یہ ہے کہ حماس انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کر لے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر فلسطینی قیادت کو اقدامات کرنے چاہئیں''.