پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
جمعه 12 ربيع الثاني 1429هـ - 18 اپریل 2008م
وزیر خارجہ کا قومی اسمبلی میں بیان
پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے
اسلام آباد - ایجنسیاں
 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ ہماراایٹمی پروگرام محفوظ اورمحفوظ ہاتھوں میں ہے اس تک کسی کو رسائی نہیں دی جائے گی- خارجہ پالیسی میں سمجھ داری اور خودداری کامظاہرہ کیا جائے گا جمعہ کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان ڈاکٹرعطیہ عنایت اللہ میاں ریاض حسین پیر زادہ،بیگم شہناز شیخ اور بیگم نوشین سعید کی طرف سے توجہ مبذول کرانے کے نوٹس کے جواب میں وزیر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں ایسا کوئی امریکی اہلکار تعینات کیاجارہا ہے جسے،نیشنل کمانڈ اتھارٹی تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی-

واپس اوپر

خبروں کی تردید

وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ ایک غلط اخباری خبر تھی جس کی پہلے ہی تردید جاری کی جاچکی ہے- انہوں نے کہا کہ ایٹمی پروگرام پر پوری قوم کااتفاق ہے کسی نے ہمیں ایٹمی پروگرام تک رسائی کیلئے درخواست نہیں دی اور اگر کوئی درخواست دیدی تو حکومت ایسا نہیں کرے گی انہو ں نے کہا کہ ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور تشویش کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس پرمیا ں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ اچھا ہے اب حکمران جماعتوں نے تسلیم کرلیا ہے کہ ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے مگر اس سے قبل وہ اس بابت وہ شک کااظہار کرتے رہتے تھے-

واپس اوپر

اسٹریٹجک پلانز ڈویژن

وزیرخارجہ نے کہا کہ حکومت نے اسٹریٹجک پلانرڈویژن قائم کردیا ہے جو کہ سیکرٹریٹ کی ذمہ داری پوری کرے گا جہاں ایٹمی پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو دو ر کرنے کیلئے غیرملکی سفیروں کو بریفنگ دی جاچکی ہے-انہوں نے کہا کہ کسی کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تحفظات نہیں رکھنے چاہئیں ایٹمی پرگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے کمانڈ اینڈ کنٹرول کامکمل ڈھانچہ موجود ہے اور ایٹمی پروگرام کے سیفٹی انتظامات بین الاقوامی معیار کے ہیں-

واپس اوپر

پاک بھارت مذاکرات

ایک اور توجہ مبذول کرانے کے نوٹس کے جواب میں وزیر خارجہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت کے ساتھ دریائے جہلم چناب اورجہلم پرمتنازعہ آبی منصوبوں کی تعمیر پر مذاکرات جاری ہیں اور اس بابت ملکی مفاد اورحقوق کے تحفظ کو ترجیح دی جائے گی انہوں نے بتایا کہ وولربیراج کا معاملہ اب پاک بھارت جامع مذاکرات کا حصہ ہے جس پر مئی میں بات ہوگی بھارت کے واٹر کمشنر مذاکرات کیلئے پاکستان آرہے ہیں اور ایجنڈے پر صرف یہی ایک مسئلہ ہے سندھ طاس معاہدے کے تحت ہم نے پہلے بھی ان پر اپنے تحفظات کااظہارکیاتھا اور چار میں سے تین فیصلے ہمارے حق میں آئے تھے اورچوتھے فیصلے کے خلاف ہم نے اپیل کی ہوئی ہے-

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: