دبئی-العربیہ نیٹ
دو ماہ قبل لاپتہ ہونے والےپاکستان کے افغانستان میں سفیر طارق عزیزالدین نے ویڈیو ٹیپ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ انہیں طالبان مجاہدین نے یرغمال بنا رکھا ہے اور حکومت ان کے مطالبات پورے کرے۔
العربیہ ٹی وی چینل پرنشر کی گئی ویڈیو ٹیپ میں طارق عزیزالدین ان کے ڈرائیور اور محافظ کو مسلح افراد کے نرغے میں دکھایا گیا ہے۔ طارق عزیزالدین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے طالبان کے مطالبات جلد سے جلد تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلند فشار خون اور دل کی تکلیف سمیت صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے چین اور ایران میں پاکستان کے سفیروں، دفترخارجہ اور اپنے بھائی سے اپیل کی کہ ان کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں۔
پاکستان سفیر طارق عزیزالدین کو ڈرائیور اور محافظ سمیت سرکاری کار میں پشاورسے کابل جاتے ہوئے گیارہ فروری کو خیبر ایجنسی کے علاقے میں اغوا کرلیا گیاتھا۔ ویڈیو فلم ان کے اغوا کے ستائیس روز بعد ممکنہ طور پر آٹھ یا نو مارچ کو بنائی گئی تھی اور یہ لاپتہ ہونے کے بعد پاکستانی سفیر کا پہلا بیان ہے۔
حکومت پاکستان نےاس سے پہلے طارق عزیزالدین کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم ایک سینئر حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان مجاہدین نے یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ ان کے بدلے میں اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
|
 |
ترجمان دفترخارجہ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ہے کہ حکومت نے افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کے اغواکاروں کے مطالبات تسلیم کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا .اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد صادق نے کہا کہ طارق عزیز الدین کی بازیابی حکومت پاکستان اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ بہت حساس ہے اوروہ کی تفصیلات زیر بحث لا کر پاکستانی سفیر اور ان کے رفقاء کی سلامتی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
|
