پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
پیر 15 ربيع الثاني 1429هـ - 21 اپریل 2008م
ہلاکتیں سیاسی جمود کا تسلسل ہیں
لبنان میں ہلاکت خیز فائرنگ سے خانہ جنگی کے خدشات بڑھ گئے
 

بیروت...اے ایف پی

لبنان کے مشرقی شہر زہلےمیں شام مخالف پارلیمانی اکثریت کی خامی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو کارکنوں کی ہلاکت کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے.

مبصرین حالیہ پرتشدد کارروائی کو ملک میں جاری سیاسی بحران کا تسلسل قرار دے رہے ہیں. آئندہ منگل کو اٹھارویں مرتبہ لبنانی صدر کے انتخاب کی کوشش بھی ماضی کی طرح کوئی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ تمام حریف جماعتوں نے اپنی پوری توجہ 2009 کے پارلیمانی انتخابات پر مرکوز کر رکھی ہے. ماضی میں صدارتی انتخاب کی سترہ بار کی گئی کوششیں اس لئے بار آور ثابت نہیں ہو سکیں کہ جن جماعتوں کے ممبران نے صدر کا انتخاب کرنا تھا وہ اس مقصد کے لئے بلاے گئے اجلاسوں میں شرکت سے گریز کرتے رہے ہیں.

اتوار کے روز ہونے والے پرتشدد کارروائی میں ہلاک ہونے والے ناصری المارونی اور سلیم العصی کی آخری رسومات منگل کے روز ادا کی جائیں گی. پولیس نے ہلاک ہونے والوں کے قتل کا الزام جوزف ذوقی نامی شخص پر عائد کیا ہے. جوزف لبنانی پارلیمنٹ میں عیسائی حزب اختلاف گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ایلی سکاف کا حماتی بتایا جاتا ہے. ملزم کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے. لبنان کے پراسیکیوٹر جنرل عبداللہ البیتار قتل کی تحقیقات کے لیے ذہلے پہنچ گئے ہیں. تاہم ان سے مسئلے پر بات نہیں ہو سکی.

یاد رہے کہ سابق صدر امین جمائل کے صاحبزادے سمیع جمائل اس حملے سے تھوڑی دیر قبل ہی علاقے سے روانہ ہوئے تھے. امین جمائل کا ایک بیٹا نومبر 2006 میں ہلاک ہوا تھا. یہ ہلاکتیں لبنان میں 1975 سے 1990 کے عرصے میں ہونے والی خانہ جنگی کا تسلسل ہیں. لبنان کی شام حماتی حزب اختلاف مغرب نواز صدر فواد سینیورا کی کابینہ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے. حزب اختلاف کے وزراء نے اٹھارہ ماہ قبل وزارتوں سے استفعے دیکر موجودہ سیاسی بحران کی داغ بیل رکھی تھی.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: