پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
منگل 23 ربيع الثاني 1429هـ - 29 اپریل 2008م
سابق پراسیکیوٹر کرنل مورس ڈیوس کا بیان
گوانتانامو میں قیدیوں کی سماعت سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے
گوانتانامو بے جیل کا اندرونی منظر - فائل فوٹو
 

واشنگٹن - ایجنسیاں


دہشت گردی مخالف جنگ میں امریکی ٹریبونلز کے سابق چیف پراسیکیوٹر کرنل مورس ڈیوس نے کہا ہے کہ خلیج گوانتا نامو میں القاعدہ قیدیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت سیاسی دباؤ پر کی جا رہی ہے اور قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کے ذریعے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

موقر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں پینٹا گان کے سابق چیف پراسیکیوٹر نے گوانتا نامو بے میں ملٹری کمیشن کے روبرو سماعت کے دوران کہا کہ بش انتظامیہ کے سینیئر حکام ان پر سیاسی مقاصد کے لیے القاعدہ کے نمایاں ارکان کے فوری ٹرائل کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

کرنل مورس ڈیوس نے امریکی فوج کے قانونی مشیر بریگیڈیئر جنرل تھامس ہارٹ من (Thomas Hartmann)پر الزام لگایا کہ انہوں نے گوانتا نامو بے کے قیدیوں کو پانی میں غوطے دینے اور ان سے تحقیقات کے دوران تشدد کے دوسرے طریقے اپنانے کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور وہ اس کارروائی کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: