دبئی – العربیۃ۔نیٹ
عراق میں عبدالقدیرعلی نامی شہری نے اپنی سترہ سالہ بیٹی کو بغداد میں تعینات ایک برطانوی فوجی سے تعلقات کے شبے میں گلا گھونٹ کر ہلا ک کر دیا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق راند عبدالقدیر نامی عراقی دوشیزہ کی ماں لیلی کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر اپنی ہی بیٹی کا گلا دبا رہا تھا تو اس نے شور مچا کر اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا مگر انہوں نے راند کو باپ کے غیظ و غضب کا نشانہ ببنے سے بچانے کے بجائے خود بھی اپنی بہن کو ہلاک کرنے میں باپ میں مدد کی۔
علی عبدالقدیر کو پولیس نے سرکاری اثر و رسوخ کے باعث گرفتاری کے چند گھنٹون بعد رہا کر دیا ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر کئے جانے والے قتل کے بارے میں کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ راند ایک رضاکار مشن کے دوران برطانوی سپاہی پال سے پہلی بار ملیں۔ اس کے بعد ان دنوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا، جس کے اطلاع راند کے والد کو ہو گئ جس پر اس نے انتہائی اقدام کرتے ہوئے قتل کر دیا۔
#
 |
پاکدامنی پر فخر راند کی انیس سالہ سہیلی زینب نے بتایا کہ ایک مسلمان ہوتے ہوئے اس کے والدین اس کی شادی کسی برطانوی عیسائی سے نہیں کر سکتے تھے۔ راند نے میری اس بات پر توجہ نہیں دی۔ وہ حقیقیت کے بجائے خوابو٘ں کی دنیا میں کھو چکی تھی۔
زینب کا کہنا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ راند کے والد نے غیرت کے نام پر اسے قتل کر دیا، راند اور اس کے مبینہ برطانوی اشنا کے درمیان کسی قسم کا جسمانی تعلق قائم نہیں ہوا تھا۔ اسے اپنی پاکدامنی پر فخر تھا اور خود کو اپنے ہونے والے شوہر کی امانت خیال کرتی تھی۔
راند بصرہ یونیورسٹی میں انگریزی زبان کی تعلم حاصل کر رہی تھی۔ اس کے والد نے راند کو اپنی کسی دوست سے پال کا تذکرہ کرتے سن لیا تھا، جس کے بعد اس نے تعیش میں آ کر اپنی عزت کی خاطر بیٹی کو قتل کر دیا۔
|
