پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
جمعه 26 ربيع الثاني 1429هـ - 02 مئی 2008م
بغداد میں ایرانی نفوذ پرعراق کی پریشانی
مسلح ملیشیا کے معاملے پر گفتگو کے لئے عراقی ایلچی ایران پہنچ گیا
مالکی نے شیعہ ملیشیا کے خلاف آپریش کا حکم دیا-فائل فوٹو
 

بغداد -- ایجنسیاں

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنا ایک وفد ایران کے دورے پر بھیجا ہے تاکہ تہران میں سیاسی قیادت کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ وہ عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا کی حمایت چھوڑ دے۔ یہ مشن ایک ایسے وقت ایران گیا ہے کہ جب امریکہ کی طرف سے ایران پر مسلسل الزام عائد کیا جا رہے کہ وہ عراق میں شورش بپا کرنے کے لئے وہاں سر گرم ملیشیا کو امداد فراہم کر رہا ہے۔

ایک شیعہ جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان سامی العکسر کا کہنا ہے کہ عراق میں حکمران اتحاد نے ایران وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ تہران کو عراق میں شعیہ گروپوں سے مالی امداد سے دست کشی پر قائل کیا جا سکے۔ عراقی وفد ایران میں موجود شعیہ رہنما مقتدی الصدر سے بھی ملاقات کرنا چاہتا تھا مگر شیعہ رہنما نے عراقی حکومتی اتحاد کے نمائندہ وفد سے ملنے سے انکار کر دیا۔

دریں اثنا عراق میں امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پطریوس نے لندن میں کہا ہے کہ مارچ کے مہینے میں نوری المالکی کے شیعہ ملیشیا کے خلاف بغداد اور گرد و نواح میں آپریشن کے بعد سے بہت زیادہ اسلحہ ملا ہے۔ جنرل ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ اس اسلحے میں ایک ہزار مارٹر گولے، آرٹلری کے زیر استعمال گولیاں اور کئی ہزار ایسے بم ملے ہیں کہ جو بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
.
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے عراقی وفد کے ایران بھیجے جانے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ ایران بھی اپنی طاقتور ہمسایہ ملک سے پیش آئند تعلقات استوار کرنے کے لئے کسی ایک بات کا انتخاب کرے گا کہ تہران کو یہ تعلقات عراق میں حکومت کا تختہ الٹ کر استوار کرنے ہیں یا کہ وہاں قائم حکومت سے راہ و رسم بڑھا کر۔ امریکہ اورعراق الزام عائد کرتا ہے کہ نوری المالکی کے بغداد میں شیعہ ملیشیا کے خلاف اپریشن میں ضبط کئے جانے والا اسلحہ ایرانی ساختہ ہے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: