مقبوضہ بیت المقدس۔ایجنسیاں
امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو ایک اہم مسئلے سے تعبیر کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں پرعائد سفری پابندیاں نرم کرے۔
فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن سمجھوتہ صدر جارج بش کی مدت صدارت میں طے پانا ممکن ہے، تاہم مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی موجودگی میں اعتماد کی فضا قائم نہیں کی جا سکی۔ محمود عباس نے بھی اس موقع پر امن کے عمل میں اپنی کمنٹمنٹ کا اظہار کیا۔
مشرق وسطیٰ کے بنیادی تنازعے کے حل کی خاطر امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر اناپولیس میں گزشتہ برس ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔
محمود عباس اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ مذاکرات میں کامیابی کی امید کم نظر آتی ہے کیونکہ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے زیر انتظام غزہ کہ پٹی میں اسرائیل اپنی جارحانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سن دو ہزار تین کو طے پانے والے نقشہ راہ کے تحت اسرائیل غرب اردن میں قائم یہودی بستیوں کو ختم کرنے کا پابند ہے۔ صہیونی حکام اس شق پر عمل کرنے کے بجائے علاقے میں نئے سرے سے یہودی بستیاں قائم کر رہے ہیں۔
