تہران ۔ واشنگٹن ۔ ایجنسیاں
ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ سے عراق میں قیام امن کے سلسلے میں مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن بغداد میں شیعہ ملیشا گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی بند نہیں کرتا جبکہ دوسری جانب امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ لبنان کی حزب اللہ عراقی عسکریت پسندوں کو تہران کے قریب کیمپوں میں فوجی تربیت دے رہی ہے۔
بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈونلڈ بیکن نے پرتشدد کارروائیوں کے دوران گرفتار کئے گئے متعدد شرپسندوں کے دوران تفتیش اقراری بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان قیدیوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایران میں رہ کر عسکری کارروائیوں کی تربیت حاصل کی۔
امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ شہادتیں عراقی حکام کو پیش کر دی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گزشتہ دنوں ایران کا دورہ کرنے والا عراقی وفد یہ ثبوت اپنے ساتھ ایران لیکر گیا ہے یا نہیں۔
کرنل ڈونلڈ کے مطابق تہران میں پاسداران انقلاب اسلامی ایران کا القدس ونگ عسکری تربیت کے یہ کیمپ چلا رہا ہے ۔ امریکہ کا الزام ہے کہ القدس فورسز واشنگٹن مخالف عراقی شعیہ راہنما مقتدی الصدر کے شرکش عناصر کو مالی امداد کے ساتھ اسلحہ اور تربیت دے رہا ہے۔
ایران واشنگٹن کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے عراق میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار علاقے میں امریکی فوج کی موجودگی کو قرار دیتا ہے۔
