پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
منگل 01 جمادى الأولى 1429هـ - 06 مئی 2008م
اقوام متحدہ کی طرف سے امداد کی اپیل
برما کے نرگس طوفان میں ہلاکتیں پچاس ہزار تک پہنچ گئیں
طوفان سے کاروبار زندگی تباہ ہو کر رہ گیا
 

رنگون۔ ایجنسیاں

برما میں سمندری طوفان کے سبب مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور برما کے سرکاری ٹیلیوژن کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک پچاس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

برما کے وزیرِ خارجہ نیان وِن نے کہا ہے بوگالے کے قصبے میں جو برما کے بڑے شہر سے سو کلو میٹر دور واقع ہے، دس ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام ابھی تک نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
#

واپس اوپر

امریکی بیان

ادھر امریکہ نے برما سے کہا ہے کہ وہ اس کی طرف سے امداد قبول کر لے۔
امریکی خاتونِ اول لارا بش نے برما سے مدد قبول کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ہنگامی امداد کے لیے 250000 ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔

طوفان سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں امدادی اشیاء پہنچنا شروع ہوگئی ہیں لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرین کو پینے کے پانی، خیموں اور غذائی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک متاثررین کے لیے عالمی امداد قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے پہلے برما کی سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ نرگس نامی طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہزار ہو چکی ہے جبکہ صحیح تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ شروع میں ہلاکتوں کی تعداد 350 بتائی گئی تھی۔ برما کی حکومت کے مطابق طوفان نے پانچ علاقوں کو متاثرہ قرار دیا ہے جن میں دو کروڑ چالیس لاکھ لوگ بستے ہیں۔
#

واپس اوپر

اقوام متحدہ امداد


اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے ریجنل سربراہ ترجے سکاوڈال نے کہا ہے کہ طوفان سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانے میں ابھی وقت لگے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: ’ہر کسی کی طرح حکومت کو بھی حالات کا صحیح اندازے لگانے میں مشکل کا سامنا ہے۔‘

ترجے سکاوڈال نے بتایا کہ طوفان سے تباہ ہونے والی سڑکیں بند ہیں اور متعدد گاؤں متاثر ہوئے ہیں جہاں پہنچنے میں وقت لگے گا۔

برما میں غیرملکی امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت پر فوجی حکومت کی جانب سے متعدد پابندیاں ہیں جس کی وجہ سے امدادی کام صرف مقامی عملے کے ذمے ہے۔ ترجے سکاوڈال نے کہا کہ اقوام متحدہ برما کی حکومت کے ساتھ بات کرے تاکہ متاثرین تک امدادی کارکنوں کی رسائی ممکن بنائی جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگ اور حکومتی اہلکار سڑکوں سے ملبے ہٹا رہے ہیں تاکہ امداد پہنچائی جاسکے۔ تاہم اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ ابھی تک برما کی فوجی حکومت نے انہیں امدادی کاموں کے لیے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: