قاہرہ ۔ ایجنسیاں
بغداد میں حکام نے ابو عمر البغدادی نامی شخص کو عراق میں القاعدہ کے نئے سربراہ کے طور پر شناخت کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تاہم عراق میں امریکی فوج سیکورٹی وجوھات کی بنا پرالقاعدہ کے نئے سربراہ سے متعلق خبر کی تصدیق یا تبصرے سے گریز کر رہی ہے اور انہیں جعلی قرار دے رہی ہے۔
عراقی پولیس کے افسر حامد داؤد الزاوی نے العربیہ ٹی وی چینل کو بتایا کہ البغدادی کا تعلق حدیثیہ کے علاقے سے ہے اور وہ2003 میں القاعدہ جوائن کرنے سے پہلے صدام حسین کے دور میں عراقی فوج میں رہے ہیں۔
دریں اثنا قاہرہ کے دورے پر گئے عراقی سنیوں کے ایک وفد نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق پر سے ایرانی تسلط کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مصری وزیر خارجہ احمد ابوالغیط سے ملاقات کے بعد عراقی سنی وفد کے رکن شیخ ماجد عبدالرازق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عراق کو ایرانی تسلط سے بچانے کے لئے خطے کے عرب ممالک کا ایک مشترکہ موقف سامنے لائیں گے۔ مصری قیادت میں ایسا موقف یقینا عراق میں ایرانی اثر و نفوذ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔ آج اگر ایران نے عراق پر اپنا قبضہ جما لیا تو وہ دوسرے عرب ممالک پراثر انداز ہوسکتا ہے۔
یاد رہے کہ انبار میں سنی قبائل ماضی میں امریکی قبضے کے خلاف بغاوت میں پیش پیش رہے ہیں تاہم ان قبائل نے حال ہی میں القاعدہ کے خلاف امریکی فوج کے ساتھ ملا لیا ہے۔ اس طرح وہ خود کو بغداد میں شیعہ بنیادوں پر قائم حکومت سے بھی دور رکھے ہوئے ہے۔
وفد نے عرب ممالک کو عراق میں اپنے سفارتخانے دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیا تاکہ سفارتی میدان صرف ایران کے لئے کھلا نہ رہے۔ وفد کے ایک رکن نے یقین دلایا کہ عراق کے جنوب یا شمال سے تعلق رکھنے والے عراقی خود عرب سفارتکاروں کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔
