بیروت ۔ ایجنسیاں
لبنان میں خونریز جھڑپوں کے بعد حزب اللہ نے دارلحکومت کے مغربی علاقے کا کنڑول چھوڑ دیا ہے اور لبنانی فوج نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
بیروت میں چار روز کی ہلاکت خیز لڑائی کے بعد زندگی معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے تاہم جنوبی لبنان کے درز پہاڑوں میں حکومتی حامیوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جا ری ہے۔ ادھر لبنان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس مصر کے دارلحکومت قاہرہ میں ہو رہا ہے۔
اس سے قبل حکومت نواز مظاہرین نے شام کی حمایت یافتہ بعث پارٹی کے دفاتر جلا ئےاور شام کے صدر بشارالاسد اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے پوسٹر پھاڑ دیے تھے۔
تاہم فوج کی مداخلت پر حکومت کی جانب سے دو متنازعہ فیصلے واپس لینے کے بعد بیروت میں جاری تصادم میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔
لبنان میں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حکومت نےحزب اللہ کے نجی ٹیلی مواصلات کے مربوط نظام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بند کر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے حکومت کے اقدامات کو یہ کہتے ہوئے اعلانِ جنگ قرار دیا کہ وہ حزب اللہ کے اثر رسوخ کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔
