اسلام آباد ۔ ایجنسیاں
پاکستان میں حکمراں اتحاد پیپلز ڈیموکریٹک الائینس کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے بلاآخر وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونےکا اعلان کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ججوں کی بحالی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اختلافات دور کرنے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ کا سنگین ترین مسئلہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اشوز کی بنیاد پر پیپلزپارٹی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔
نواز شریف نے کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے اور اس کو غیر مستحکم کرنے کی ’سازشوں‘ کا حِصّہ نہیں بنیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بارے میں انہوں نے فیصلہ پیپلزپارٹی کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔
پارٹی کی مرکزی قیادت کے ہمراہ پنجاب ہاوس میں اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے اراکین قومی اسمبلی سرکاری بنچوں پر ہیں بیٹھیں گے۔
فیصلے کے مطابق مسلم لیگی وزراء منگل کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ایک ملاقات میں اپنے استعفے پیش کریں گے۔ کابینہ سازی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے حصے میں چوبیس میں سے خزانہ، تعلیم اور مواصلات جیسی نو اہم وزارتیں آئیں تھیں۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت نے صرف ایک بات پر پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی تھی کہ ججوں کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ اعلان مری میں تین نکات تھے جن میں کہا گیا تھا کہ تمام معزول ججوں کو تیس روز کے اندر قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے دو نومبر والی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت پر لازم ہے کہ تمام ججوں کو عزت و احترام کے ساتھ غیر مشروط پر ان کے عہدوں پر بحال کرے۔ نواز شریف نے کہا کہ کوئی معاشرہ بغیر آزاد عدلیہ کے اپنے مسائل حل نہیں کر سکتا۔
نواز شریف نے کہا کہ بارہ مئی پچاس لوگوں کو ’شہید‘ کیا گیا لیکن آج تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کے واقعے کو عوامی طاقت کا مظاہرہ کہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جج ضرور بحال ہوں گے اور اٹھارہ فروری کے مینڈیٹ کا پرچم پورے ملک پر ضرور لہرائے گا۔
