بیروت ۔ ایجنسیاں
لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے صاحبزادے اور حکمران اتحاد کےسرکردہ رہنما سعد الحریری نے کہا ہے کہ ہم حزب اللہ کی ایران اور شام کی حمایت یافتہ سیاست کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔ حزب اللہ طاقت کے زور پر لبنانی قوم پر اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتی۔
گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے بعد پہلی مرتبہ بیروت میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعد حریری نے حزب اللہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی اور شام حمایت یافتہ تنظیم دونوں ممالک کی لبنان کے لئے تیار کردہ دستاویز پر میری حمایت حاصل نہیں کر سکتی۔
گزشتہ ہفتے کی جھڑپوں کے دوران زبردستی بند کرائے جانے والے سعد حریری کے ملکیتی ٹی وی چینل نے حریری کی نیوز کانفرنس سے چند لمحے قبل اپنی نشریات کا دوبارہ اغاز کر دیا۔
لبنان کی فوج نے شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے حزب اللہ اور حریری کے وفادار جنگجوں سے گلیوں میں لگائے گئے ناکے اور رکاوٹیں ختم کرانا شروع کر دیں۔ فوج کے اس کلین اپ اپریشن سے حزب اللہ کو کوئی پریشانی لاحق نہیں کیونکہ تنظیم نے فوج کے ساتھ مڈ بھڑ کی پالیسی سے اجتناب کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کی جھڑپوں میں لبنانی فوج نے غیر جانبدار کردار ادا کیا ہے۔ ان خونریز جھڑپوں میں ابتک اکیساسی افراد جاں بحق جبکہ دو سو پچاس زخمی ہوئے ۔
