کویت سٹی ۔ ایجنسیاں
کویت کے سابق حکمران شیخ سعد عبد اللہ الصباح طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ سرکاری ٹی ویژن پر شاہی بیان میں ان کی رحلت کی خبر نشر کی گئی۔ ان کی عمر 78 برس تھی۔
مرحوم شیخ سعد، سن 2006 میں شیخ جابر الاحمد الصباح کی رحلت کے بعد کویت کی امارت کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہونے کے نو دن بعد ہی کویتی پارلیمان نے انہیں ان کے عہدے سے یہ کہتے ہوئے الگ کر دیا کہ وہ خرابی صحت کی وجہ سے اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔
سرکاری بیان کے مطابق انہیں بدھ کے روز سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ آپ کویت کے گیارہویں امیر عبد اللہ السالم الصباح کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ ان کے والد کو دستور اور آزادی کا کویت میں بانی تصور کیا جاتا ہے۔ وہ 1997 سے 2006 تک کویت کے کراؤن پرنس رہے۔ انہوں نے اس منصب سے صحت کی خرابی کیوجہ سے استفعفی دیا۔
کویت میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے بعد انہوٰں نے لندن میں ہڈن پولیس کالج میں داخلہ لیا جہاں وہ 1954 تک سیکورٹی امور کے متخلف پروگراموں میں شریک رہے۔ وطن واپسی پر وہ محکمہ پولیس میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ سن 1959 میں انہیں پولیس اور پبلک سیکورٹی کے شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا، جہاں پر وہ 1961 تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
سن 1962 میں شیخ سعد کو برطانوی تسلط سے ازادی کے بعد بننے والی پہلی کابینہ میں وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا گیا۔ سن 1964 میں انہیں وزارت دفاع کا اضافی چارج دیا گیا۔ شیخ سعد کو 1997 میں علاج کی غرض سے امریکہ اور برطانیہ کے متعدد سفر کرنے پڑے، اسی دوران ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ اپنی شریکہ حیات شیخہ لطیفہ، تین بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت ہزاروں سوگواروں کو چھوڑ کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
