دوحہ ۔ ایجنسیاں
لبنان کے جھگڑالو سیاسی رہنما عرب لیگ کے زیر انتظام قطر میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔ مذاکرات کا مقصد طویل عرصے سے جاری تنازعات کا خاتمہ ہے کہ جن کے باعث ملک ایک نئی خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
لبنان کا امریکی حمایت یافتہ حکمران اتحاد اور حزب اللہ کی زیر قیادت سر گرم حزب اختلاف ملک میں اٹھارہ ماہ سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کی کوشش کریں گے کہ جس پورا ملک جمود کا شکار ہو کر صدر کے انتخاب میں ناکام ہو گیا ہے۔
ایک ہفتے سے زائد مدت تک جاری رہنے والی لڑائی میں 65 افراد کی ہلاکت اور 200 کے قریب زخمیوں کے بعد حکومت اور حزب اختلاف دونوں صدر کے انتخاب اور قومی اتفاق رائے کی حکومت قائم کرنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔
قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ حماد بن جاسم الثانی کی سربراہی میں عرب لیگ نے چھ نکاتی مصالحتی پروگرام تشکیل دیا ہے کہ جس کے تحت سیاسی حریفوں نے لبنان حکومت کی سیادت کو پورے ملک میں رائج کرنے کے منصوبے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہا جائے اور مسلح جنگجوؤں کو گلیوں میں کھلے عام اسلحے کی نمائش سے باز رکھا جائے۔
نکات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سڑکوں میں کھڑی ان رکاوٹوں کو بھی راستے سے ہٹایا جائے کہ جس ہوائی اڈے کو جانے والے راستے مسدود ہو کر رہ گئے تھے اور ملک میں فضائی سروس بھی معطل ہو کر رہ گئی تھی۔
بیروت میں پارلیمنٹ کا اجلاس دس جون کو ہو گا کہ جس میں صدر کے انتخاب کی 20 ویں کوشش کی جائے گی۔ شام نوار امائیل لاھود کے عہدے کے معیاد گزشتہ برس نومبر میں پوری ہو گئی تھی۔ لبنان کا سیاسی بحران اس وقت شروع ہوا کہ شام نوار وزراء نے وزیر اعظم فواد سینیورا کی کابینہ سے استعفے دیئے۔
دونوں سیاسی فریق فوج کے سربراہ میخائل سلیمان کو صدر لاھود کا جانشین بنانے پر راضی ہو گئے مگر قومی اتفاق رائے کی مجوزہ حکومت اور آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے نئے قانون پر طرفین کے درمیان اختلافات ختم نہ ہو سکے۔
