بیروت.ایجنسیاں
لبنان کی پارلیمانی اکثریت کے رہ نما سعدالحریری نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ کیا جائے کہ وہ کوئی بنانا ریاست ہے .انہوں نے یہ بات شام کے صدربشارالاسد کے اس بیان کے جواب میں کہی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ شمالی لبنان میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر نہیں ہے.
سعدالحریری نے جمعہ کودارالحکومت بیروت میں ایک افطارڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ'' گزشتہ کئی روزسے ہم شامی حکومت کی جانب سے طرابلس کے راستے لبنان میں واپسی کی باتیں سن رہے ہیں.ہم نے اس سازش کی جانب لبنانیوں اورعرب لیگ کی توجہ مبذول کرائی ہے جس کے تحت لبنان میں دوبارہ شامی حکومت کےاثرورسوخ کی کوشش کی جارہی ہے''.
انہوں نے شام پر لبنان میں دہشت گردی کوبرآمد کرنے کاالزام لگایا.بشارالاسد کے بیان پرتبصرہ کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ ''لبنان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے .ہم نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سناہے کہ لبنان کا مسئلہ دہشت گردی کے خاتمہ تک حل نہیں ہوگا.ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو لبنان میں دہشت گردی کو برآمد کرنے کے ذمہ دار ہیں انہیں یہاں انتہا پسندی پر اظہارتشویش کا کوئی حق حاصل نہیں ہے''.
صدربشارالاسد نے گذشتہ جمعرات کو دمشق میں چار ملکی سربراہ اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ انہوں نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ان کے اگست میں شام کے دورہ کے موقع پرشمالی لبنان میں انتہاپسندی سے نمٹنے کے لئے مزید فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی.
لبنان کے مغرب کے حمایت یافتہ حکمران اتحاد نے اپنےایک بیان میں کہا ہے کہ ''شامی صدر نے صدر مائیکل سلیمان سے درخواست کے وقت جو الفاظ استعمال کئے،وہ لبنان کے امور میں سیدھی سیدھی مداخلت ہے.اس سے لبنان کی خود مختاری کو تسلیم نہ کرنے کی عکاسی بھی ہوتی ہے''.
لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں مئی 2008ء کے بعدشیعہ تنطیم حزب اللہ کے حامی علویوں اور شام مخالف حکمران اتحاد کے حامی سنیوں کے درمیان لڑائی میں 23 افراد مارے گئے تھے.
یاد رہے کہ2005ء میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کی بیروت بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد شام کو لبنان میں تعینات اپنی فوجوں کو واپس بلانا پڑاتھا.شام نے قریباً تین عشرے تک اپنے چھوٹے ہمسایہ ملک پراپنا سیاسی اور فوجی تسلط برقرار رکھا تھا اور اب وہ دوبارہ بیروت میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے.
