واشنگٹن .ایجنسیاں
امریکی کانگریس کے ایوان بالا سینٹ نے ملک میں جاری سنگین مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے بدھ کی رات سات سوارب ڈالرزکے امدادی پیکج کی منظوری دے دی ہے اوراب اس بل کودوبارہ رائے شماری کے لئے ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا.
امریکی سینٹ کے 74 ارکان نے اقتصادی بحالی کے پیکج کے حق میں ووٹ دیا .ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواربارک اوباما سمیت چالیس ارکان اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار سینٹر جان مکین سمیت 34 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 25 ارکان نے بل کی مخالفت کی.
صرف ایک سینٹر اجلاس سے غیر حاضر تھے اور وہ دماغی کینسرکاشکارسینٹر ایڈورڈ ایم کینیڈی ہیں جو زیرعلاج ہونے کی وجہ سے رائے شماری میں حصہ نہیں لے سکے.
ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی رہ نما ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ ''اس بل کی حمایت بحران سے نمٹنے اور ملکی معیشت کے استحکام ،خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے''.
سنیٹ میں رائے شماری کے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کا ماحول برقراررہا اور جب سینٹربارک اوباما ری پبلکن صدارتی امیدوار جان مکین کی جانب مصافحہ کے لئے آگے بڑھے تو انہوں نے سردمہری کا مظاہرہ کیا اوران کی طرف بے دلی سے ہاتھ بڑھایا.
سینٹرجان مکین نے قانون سازی کے وقت کوئی ریمارکس نہیں دئیے جبکہ بارک اوباما نے اپنی تقریر میں کہاکہ امدادی پیکج قابل افسوس ضرورہے لیکن یہ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے ناگزیر تھا .انہوں نے ایوان نمائندگان میں بل مسترد ہونے کے بعد سٹاک مارکیٹ کے گرجانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر ہم نے اب مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے اقدامات نہ کئے تواس کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے.
صدربش نے سینٹ میں بل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہر امریکی کی مالیاتی ضمانت کے لئے ضروری تھا .انہوں نے ایوان نمائندگان پر بھی زور دیا کہ وہ سینٹ کی پیروی کرے.
سینٹ میں منظور کئے گئے امدادی پیکج کے بل میں ایک ترمیم کی گئی ہے اور وہ یہ کہ پیکج میں فیڈرل ڈیپازٹ انشورنس کارپوریشن ،ایف ڈی آئی سی کے ہاں بیمہ کئے گئے بنک ڈیپازٹس کی رقم ڈھائی لاکھ ڈالرز سے بڑھا کر دس لاکھ ڈالرزکردی گئی ہے.
سینٹ نے بل میں کاروباری افراد اور متوسط طبقے کے لئے 110ارب ڈالرزکی ٹیکس کٹوتیوں کی بھی منظوری دی ہے جس کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ ایوان نمائندگان کے ارکان بھی اب اس کی حمایت کردیں گے.
ایوان نمائندگان میں دونوں جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر جمعرات کو اپنی اپنی پارٹی کے ارکان سے بل کی منظوری کے لئے بات چیت کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ اسے جمعہ کو رائے شماری کے لئے دوبارہ ایوان میں پیش کردیا جائے گا.
سینٹ کے بعد امریکی نمائندگان میں اس بل کی منظوری سے امریکی حکومت بحران کا شکار مالیاتی اداروں کے ڈوبے ہوئے قرضوں اور دسرے اثاثوں کو خرید سکے گی.
