واشنگٹن.ایجنسیاں
امریکی کانگریس نے بدھ کے روز بھارت امریکا جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت گذشتہ تین عشروں سے امریکا کی بھارت کے ساتھ جوہری تجارت پر پابندی کا خاتمہ ہوگیا ہے.
ایوان نمائندگان کے بعدامریکی سینٹ میں ارکان نے تیرہ کے مقابلے میں چھیاسی ووٹوں کی اکثریت سے جوہری معاہدے کی توثیق کی اور اب اسے حتمی منظوری کے لئے صدر بش کے پاس بھیجا جائے گا جن کے دستخطوں کے بعد یہ ایک قانون بن جائے گا.
امریکی سینٹ نے اس معاہدے کی ایسے وقت میں منظوری دی ہے جب امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزارائس اسی ہفتے بھارت کا دورہ کرنے والی ہیں.
بش انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے امریکا کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات استوار ہوں گے ،بھارت کوتوانائی کی اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اوراربوں ڈالرزمالیت کی مارکیٹ کھلنے کی راہ ہموار ہوگی.
اس وقت بھارت کوتوانائی کی قلت کےبحران کا سامنا ہے اوراس معاہدے سے امریکا کی جنرل الیکٹرک اور جاپان کی توشیبا کارپوریشن کے ذیلی ادارے ویسٹنگ ہاٶس الیکٹرک جیسی کمپنیوں کے لئے اربوں ڈالرزمالیت کی مارکیٹ کھلے گی.
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزارائس نے گذشتہ ماہ کے دوران زیادہ تر وقت کانگریس کے ارکان کو معاہدے کی منظوری کے لئے آمادہ کرنے میں گزارہ ہے جس کے بارے میں بش انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے امریکا بھارت تعلقات یکسر تبدیل ہوکر رہ جائیں گے جبکہ صدر بش بھی جنوری 2008ء میں سبکدوش ہونے سے قبل اس معاہدے کی منظوری چاہتے تھے.
امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکان کی اکثریت نے امریکا بھارت جوہری معاہدے کی اس لئے بھی حمایت کی ہے کہ اس سے امریکا کی سول نیوکلئیر انڈسٹری میں ملازمتوں کے مزیدمواقع پیدا ہوں گے اورامریکا میں بھارت کی چھوٹی مگر بااثراقلیت کی حمایت حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی.
لیکن دوسری جانب معاہدے کے ناقدین کا کہناہے کہ اس سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاٶ کو روکنے کے لئے عالمی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا کیونکہ اس کے تحت بھارت کو ایٹمی تجربات اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاٶ کے معاہدے این پی ٹی پر دست خط نہ کرنے کے باوجود ایٹمی ایندھن اورٹیکنالوجی درآمد کرنے کی اجازت مل جائے گی.
ناقدین کا کہناہے کہ امریکا بھارت جوہری معاہدہ بہت ہی غیر دانشمندانہ اقدام ہے اوراس سے امریکا کی گذشتہ کئی عشروں سے جاری اس پالیسی کی بھی نفی ہوتی ہے جس کے تحت وہ ان ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنے سے انکار کرتا رہا ہے جن کے پاس اس ٹیکنالوجی کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں تبدیل کرنے سے روکنے کے لئے مکمل حفاظتی اقدامات،سیف گارڈزنہیں ہیں.
اس معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ بھارت بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ ایک سیف گارڈز معاہدے کے لئے بات چیت شروع کرنے کی غرض سے جلد اقدامات کرے گا.
یاد رہے کہ فرانس نے گذشتہ منگل کو بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ روس پہلے ہی بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈوایک ہزار میگاواٹ کے دوری ایکٹرزکی تعمیر کررہا ہے.
