واشنگٹن .العربیہ.نیٹ
امریکی کانگریس کے ایوان بالا سینٹ کے بعد ایوان نمائندگان نے بھی ملک میں جاری سنگین مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے جمعہ کو سات سوارب ڈالرزکے امدادی پیکج کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد صدربش نے اس پر دستخط کر دئیے ہیں اور یہ ایک قانون بن گیا ہے.
ایوان نمائندگان کے 171 کے مقابلے میں 263 ارکان نے مالیاتی امدادی پیکج کی منظوری دی جس کے ساتھ ہی کانگریس میں گذشتہ دوہفتوں سے جاری مالیاتی بحران پر بحث ومباحثے کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے.
صدربش نے کانگریس کی جانب سے وال سٹریٹ کے بیل آٶٹ پیکج کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی معیشت کو سنبھالا دینے کے ضروری تھا.
امریکی صدر نے بل پر رائے شماری کے فوری بعد کہا کہ ہم نے وال سٹریٹ کے بحران پر قابو پانے کے لئے دلیرانہ اقدام کیا ہے تاکہ یہ ملک بھر میں دوسری کمیونٹیوں کا بحران نہ بننے پائے.انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ہماری معیشت کو ابھی سنجیدہ چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا.
ایوان نمائندگان نے گذشتہ پیر کو امدادی پیکج سے متعلق بل کے ابتدائی مسودے کو مسترد کرکے عالمی مارکیٹوں کو صدمے سے دوچارکردیا تھاکیونکہ 4نومبر کے صدارتی انتخابات سے قبل امریکی قانون ساز ٹیکس دہندگان سے وال سٹریٹ کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے کے لئے محصولات کی شکل میں مزید رقوم طلب کرنے سے ہچکچا رہے تھے .
یورپی کمیشن نے امریکی کانگریس کی جانب سے مالیاتی صنعت کو سنبھالا دینے کے لئے امدادی پیکج کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے اورکہا ہے کہ اس اقدام سے مارکیٹوں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی.
جمعہ کے روز امریکی سٹاک مارکیٹ میں امدادی پیکج کی منظوری کی امید پر بہترآئی ہے اور ان کی کاروباری شرح میں اضافہ ہواہے جبکہ یورپین سٹاکس میں بھی قریباً تین فی صد اضافہ ہوا ہے.
واضح رہے کہ دوروز پہلے بدھ کو امریکی سینٹ کے 74 ارکان نے اقتصادی بحالی کے پیکج کے حق میں ووٹ دیا تھا جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواربارک اوباما اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار سینٹر جان مکین بھی شامل تھے.جس کے بعد اسے دوبارہ رائے شماری کے لئے ایوان نمائندگان میں بھیجا گیا تھا.
ڈیموکریٹک پارٹی کے سینٹ میں پارلیمانی رہ نما ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ ''اس بل کی حمایت بحران سے نمٹنے اور ملکی معیشت کے استحکام ،خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے''.
کانگریس میں منظور کردہ امدادی پیکج کے بل میں ایک ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت فیڈرل ڈیپازٹ انشورنس کارپوریشن ،ایف ڈی آئی سی کے ہاں بیمہ کئے گئے بنک ڈیپازٹس کی رقم ڈھائی لاکھ ڈالرز سے بڑھا کر دس لاکھ ڈالرزکردی گئی ہے.
بل میں کاروباری افراد اور متوسط طبقے کے لئے 110ارب ڈالرزکی ٹیکس کٹوتیوں کی بھی منظوری دی گئی ہے اور اس ترمیم کی وجہ سے ہی ایوان نمائندگان کے ارکان اس بل کی حمایت پر آمادہ ہوئے ہیں.
کانگریس میں منظوری اور صدر بش کے دستخطوں کے بعد اب امریکی حکومت بحران کا شکار مالیاتی اداروں کے ڈوبے ہوئے قرضوں اور دسرے اثاثوں کو خرید سکے گی.
