تہران.العربیہ.نیٹ
ایران نے بحرین کے وزیرخارجہ کی جانب سے پیش کی گئی اسرائیل ،عرب ریاستوں ،ایران اور ترکی پرمشتمل علاقائی تنظیم کے قیام کی تجویزمسترد کردی ہے.
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے وزیر خارجہ منوچہر متکی کے حوالے سے کہا ہے کہ ''مجھے بحرین کے وزیرخارجہ شیخ خالد بن خلیفہ احمد الخلیفہ کا بہت احترام ہے لیکن انہوں نے اسرائیل کے ساتھ گروپ کے قیام کی جوتجویز پیش کی ہے ،وہ قابل عمل نہیں ہے''.
''ہمارے بحرینی دوست اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسئلہ کہاں درپیش ہے اور اسی وجہ سے اس تجویزپر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا''.ایرانی وزیر خارجہ کا تہران میں نیویارک کے لئے روانگی سے پہلے کہنا تھا جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے.
منوچہرمتکی کاکہنا تھا کہ ایران کاعلاقائی دشمن ایک غیر قانونی ملک ہے جو کئی ایک دعوے کرتا رہتا ہے اور ابھی تک وہ توسیع اور قبضہ برقرار رکھنے کا سوچ رہا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ''یہ ملک قانونی ہے اور نہ ہی قابل اعتماد''.
بحرین کے وزیرخارجہ نے بدھ کے روزپان عرب روزنامہ الحیاة میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں ایک علاقائی بلاک کے قیام کی تجویز پیش کی تھی .''اسرائیل،ایران ،ترکی اورعرب ریاستوں پر مشتمل ایک تنظیم قائم کی جانی چاہئے''.ان کا کہناتھا.
بحرینی وزیرخارجہ کی اس تجویز کی ان کے اپنے ملک میں بھی شدید مخالفت کی گئی ہے اور قانون سازوں اورحزب اختلاف کے کارکنوں نے اس تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں یاپھروہ پارلیمنٹ کے ارکان کو سوالوں کاجواب دیں.
بحرین امریکا کا اہم اتحادی ہے اور اس کا واشنگٹن کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ہے.امریکا کا پانچواں بحری بیڑا بھی بحرین میں تعینات ہے.
بحرین کے ولی عہد شیخ سلمان بن حمادالخلیفہ نے 2000ء اور 2003ء میں ورلڈ اکنامک فورم کے انعقاد کے دوران اسرائیلی حکام سے ملاقات کی تھی جبکہ شیخ خالد نے اپنی اسرائیلی ہم منصب زیپی لیفینی سے گذشتہ سال اقوام متحدہ میں ملاقات کی تھی.تاہم بحرین کی سیاسی جماعتیں اسرائیل کےساتھ معمول کے تعلقات کی مخالفت کر رہی ہیں.
