پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
بفته 04 شوال 1429هـ - 04 اکتوبر 2008م
سال کا مہلک ترین حملہ:15 فوجی ،23 کرد باغی مارے گئے
ترک فوجیوں کی کرد باغیوں سے جھڑپیں:38ہلاک
جھڑپیں عراق سرحد کے قریب ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں ہوئیں،فائل
 

انقرہ.ایجنسیاں

عراق کی سرحد کے قریب ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 15 ترک فوجی ہلاک ہوگئے ہیں.

ترک فوج کے جنرل سٹاف نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سال میں ترک فوجیوں پر کرد باغیوں کی جانب سے یہ مہلک ترین حملہ تھا جس کے بعد جھڑپوں میں کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے ،کے 23 ارکان ہلاک ہوگئے .لڑائی عراق اور ایران کی سرحد کے قریب واقع سیمدنلی کے علاقے میں ہوئی.

گزشتہ ایک سال کے دوران ترک فوج نے شمالی عراق کے پہاڑی علاقوں میں واقع کرد باغیوں کے ٹھکانوں کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے .

یاد رہے کہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردگا ن نے گذشتہ ماہ پارلیمنٹ سے عراق میں کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لئے مینڈیٹ کی مدت میں توسیع کرنے کی درخواست کی تھی .اس اجازت نامے کی مدت اس ماہ ختم ہورہی ہے.

پی کے کے کوامریکا اور یورپی یونین نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور ترکی کا الزام ہے کہ یہ تنظیم چالیس ہزار سے زیادہ لوگوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے .باغیوں نے 1984ء میں ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد نسل کے لئے ایک الگ ملک کے قیام کی غرض سے اپنی مسلح کارروائیوں کاآغاز کیا تھا.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: