سری نگر .ایجنسیاں
بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں حکام نے اتوار کو حریت پسند جماعتوں کی جانب سے سری نگر کے لال چوک میں ریلی کے انعقاد سے ایک روزقبل غیر معینہ مدت کے لئے کرفیونافذ کردیا ہے.
بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے لال چوک کی جانب جانے والے تمام راستےسیل کر دیے ہیں اور چھے اکتوبر کو ہونے والے آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں جبکہ متعدد حریت پسند رہ نماؤں کو گرفتارکرلیا گیاہے۔
پولیس نے شہر میں لاٶڈ اسپیکرز کے ذریعے گاڑیوں پر گشت کرکے لوگوں کو اپنے گھروں کے اندرہی محصور رہنے کی ہدایت کی جبکہ ہزاروں پولیس اہلکار اور بھارتی فوجی شہرکے مختف علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں.
کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے وادی میں کرفیو کے نفاذ کوغیر جمہوری قرار دیا ہے .حریت کانفرنس کے چئیرمین میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے اپنے اپنے الگ الگ بیان میں اس فیصلہ کی مذمت کی ہے۔
سرینگر پولیس نے ہفتہ کی رات گئے حریت پسند رہ نما یاسین ملک کے علاوہ متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا جبکہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کی ان کے گھروں میں نظربندی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ واضح رہے کہ شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی اوردوسرے درجنوں حریت کارکن پہلے ہی زیرِ حراست ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند جماعتوں ،کاروباری طبقوں اور تاجروں کے نمائندوں پر مشتمل نئے اتحاد جموں کشمیر رابطہ کمیٹی نے پیر 6 اکتوبر کو سری نگر کے لال چوک میں ایک بہت بڑی ریلی نکالنے کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا.
مقبوضہ کشمیر حکومت کے ایک سنئیر عہدے دار انیل گوسوامی نے بھارت کے سرکاری ٹیلی ویژن دوردرشن پر ایک بیان میں شہریوں سے کہا ہے کہ ''حکام کے ساتھ تعاون کریں اگر آپ نے کرفیو کی خلاف ورزی کی تو سکیورٹی فورسزاس کا جواب دیں گی''.
قابض حکام نے کسی بھی احتجاجی ریلی کو روکنے کے لئے ایک ماہ تک پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی ہے لیکن حریت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیر کو ریلی نکالیں گے.
ممتازکشمیری رہ نما سید علی گیلانی نے اپنے بیان میں کہاکہ ''ہر فرد کو لال چوک میں ریلی میں شریک ہونے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ دنیا پر یہ واضح کردیا جائے کہ کشمیری حق خود ارادیت چاہتے ہیں''.
مقبوضہ وادی میں گذشتہ دو ماہ سے کشمیریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران 1989ء میں بھارتی تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد سے پہلی مرتبہ بڑے بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں نے شرکت کی .گذشتہ دنوں مظاہرین پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چالیس کشمیری شہید اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے.
واضح رہے کہ حالیہ مظاہرے بھارتی حکومت کی جانب سے ہندویاتریوں کے لئے شیلٹرزتعمیر کی غرض سے امرناتھ یاتر بورڈ کو کشمیریوں کی 800کنال اراضی دینے کے فیصلے کے خلاف شروع ہوئے تھے .
مقبوضہ کشمیر میں 2004ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا عمل شروع ہونے کے بعد قابض بھارتی فوجیوں اور حریت پسند مجاہدین کے درمیان تشدد کے واقعات میں واضح کمی ہوئی ہے تاہم جھڑپوں اور بم دھماکوں کے اکا دکا واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں.
