افغان جنگ جیتی نہیں جاسکتی:برطانوی فوجی کمانڈر
''حملہ آوروں '' سے مذاکرات نہیں کریں گے:طالبان
افغانستان میں برطانیہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈراتوار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ جیتی نہیں جاسکتی اور عوام کو کسی فیصلہ کن فوجی فتح کی امید نہیں رکھنے چاہئے.
برطانوی اخبارسنڈے ٹائمزمیں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں بریگیڈئیرمارک کارلیٹن سمتھ نے کہا ہے کہ لوگوں کو جنگ کے خاتمہ کے بارے میں کوئی بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیئں .ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کی صورت میں ہی کوئی پیش رفت ممکن ہے.
''ہم اس جنگ کو جیتنے نہیں جارہے بلکہ ہم مزاحمتی سرگریوں کو کم کر کے مزاحمت کی قابل انتظام یا سنبھالنے کی سطح پرلارہے ہیں تاکہ یہ کوئی سٹریٹجک خطرہ نہ رہے اور یہ کام افغان فوج بھی کر سکتی ہے''.انہوں نے اخبار کوبتایا.
کارلیٹن سمتھ کا کہنا تھا کہ ''ان کی فوجیں 2008ء کے دوران طالبان کو کسی حد تک دبانے میں کامیاب رہی ہیں لیکن یہ کہناغیرحقیقت پسندانہ اورغالباً ناقابل اعتباربات ہوگی کہ افغانستان میں موجود کثیر ملکی فوج ملک کو مسلح گروپوں سے پاک کرسکتی ہے''.
ان کا کہناتھا کہ ''ممکن ہے جس وقت ہمارا انخلاء ہو ،اس وقت مزاحمتی سرگرمیاں قدرے ماند پڑجائیں لیکن ہمیں دیہی علاقوں میںمزاحمتی سرگرمیوں کے لئے تیاررہنا چاہئے اور ہمیں اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ دنیا کے اس حصے میں سرگرم عمل مسلح گروہ ختم ہوجائیں گے''.
مزاحمت کو شکست دیناہوگی
افغانستان کے وزیر دفاع نے برطانوی فوجی کمانڈر کے بیان پر مایوسی کااظہارکیاہے اور کہا ہے کہ مزاحمتی سرگرمیوں کو شکست دینا ہوگی.
افغان وزیردفاع عبدالرحیم وردک نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کے خیال میں یہ برطانوی کمانڈر کی ذاتی رائے ہے.حالانکہ افغان حکومت اور پوری عالمی برادری کا مقصد دہشت گردی کو شکست دینااور کامیاب ٹھہرناہے''.
وردک کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف کامیابی کاانحصاربرطانوی فوج کی کارکردگی پر بھی ہے کہ وہ کیسے صوبہ ہلمند میں اس مسئلے سے نمٹتی ہے.تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا برطانوی فوج کی حالیہ حکمت عملی کامیاب جارہی ہے یا ناکام .
افغانستان میں اس وقت برطانیہ کے آٹھ ہزارفوجی موجودہیں جن میں زیادہ تر شورش زدہ جنوبی صوبہ ہلمند میں تعینات ہیں جہاں انہیں روزانہ طالبان کے حملوں اور ان کے ساتھ لڑائی کا سامنا ہے.
حملہ آوروں سے مذاکرات نہیں
معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے کمانڈراور سفارتکاریہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کی مزاحمت کو صرف فوجی طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کیاجاسکتا اور تنازعے کے خاتمہ کے لئے بالآخرطالبان جنگجوٶں کے ساتھ بات چیت کرناہوگی.
لیکن طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے .انہوں نے طالبان کمانڈروں کے افغانستان سے 70 ہزار سےزیادہ غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے مطالبے کودہرایا.
طالبان کے ترجمان نے پاکستان میں قائم افغان خبررساں ادارے اے آئی پی کو بتایا کہ ''انہیں،اتحادیوں کویہ بات معلوم ہوجانی چاہئے کہ طالبان کبھی حملہ آوروں سے مذاکرات نہیں کریں گے''.
''ہم نے ماضی میں جو کچھ کہا ہے وہ بات ایک مرتبہ پھردہرائے دیتے ہیں کہ غیر ملکی فوجوں کو کسی شرط کے بغیر ملک سے چلے جانا چاہئے''. ان کا کہنا تھا.
واضح رہے کہ افغانستان پر اکتوبر2001ء میں امریکا کے حملے کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمہ کے بعداس سال تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے.جس کی وجہ امریکا اپنے اتحادی ملکوں پرجنگ زدہ ملک میں مزید فوجیں بھیجنے کے لئے دباٶ ڈال رہا ہے.