پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
منگل 07 شوال 1429هـ - 07 اکتوبر 2008م
جوڑے کا نقصان اورہتک عزت پرہرجانہ اداکرنے کا مطالبہ
سعودی مذہبی پولیس کی جانب سے کاروں کے تعاقب پرتصادم
پولیس کی جانب سے دو کاروں کے تعاقب کے بعد حادثات پیش آئے.
 

دبئی.العربیہ.نیٹ

فراٹے بھرتی کاریں اوران کی تیز رفتاری ،کاروں کاآپس میں ٹکرانا اورغیر قانونی فرار کا منظر شاید ہالی وڈ کی کسی فلم جیسا لگے لیکن سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں مذہبی پولیس کے پر جوش افسراسی قسم کا مظاہرہ اور منظرپیش کر کے شہریوں کے لئے تفریح طبع کا سامان کر رہے ہیں.

ان دنوں سعودی عرب کے کمیشن برائے امربالمعروف اور نہی عن المنکرسے تعلق رکھنے والے افسر''غیر قانونی قربت یا تنہائی '' کے خلاف کریک ڈاٶن کی وجہ سے توجہ حاصل کررہے ہیں .واضح رہے کہ سعودی عرب میں یہ اصطلاح نامحرم مرد اورعورت کی تنہائی میں ملاقات کے لئے استعمال کی جاتی ہے.

ایک سعودی اخبار کے مطابق دارالحکومت ریاض میں اگلے روزمذہبی پولیس افسرایک مشتبہ جوڑے کی غیرقانونی قربت وجہ سے ان کی کارکا پیچھا کررہے تھے کہ اچانک کار حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں متعدد دوسری گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں.

ایک عینی شاہد کے مطابق پولیس کی جانب سے مشتبہ جوڑے کا تعاقب اس وقت ختم ہوا جب اس مرد کی کارایک جنگلے اورچار گاڑیوں سے جاٹکرائی.

حادثے کے بعدپولیس افسروں نے کارمیں سوارعورت کو گرفتار کرلیااورمردکی وحشیانہ اندازمیں ٹھکائی کی اوراس کاشناختی کارڈ بھی لے لیا.حادثے کا شکار ہونےو الی گاڑیوں کے مالکان نے کہا ہے کہ وہ اپنے نقصان کے ازالے کے لئے کمیشن سے رجوع کریں گے.

سعودی اخبار الوطن میں منگل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کمیشن کے نائب سربراہ شیخ ابراہیم الہویمل نے کہا ہے کہ پولیس افسروں کی جانب سے کار کے تعاقب کا عمل محکمے کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی ہے اور اس پران کے خلاف کارروائی کی جائے گی.

مدینہ منورہ میں بھی کمیشن کے افسروں نے ایک شخص اور اس کی بیوی کا مبینہ غیرقانونی تنہائی پر تعاقب کیا جس کے نتیجے میں دوکاروں میں تصادم ہوگیا.واقعہ کے بعد اس شخص کے بھائی کا پولیس سے جھگڑا ہوا جبکہ اس کے برادر نسبتی نے کمیشن کے افسروں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی جس پران کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا اوراب وہ تحقیقات کے بعد ضمانت پرہیں.

اس خاتون کا کہناہے کہ اس نے اپنے خاوندسے نہ رکنے کا کہا تھا کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس کا ان سے ثبوت طلب کیا جاتا اور جس گاڑی میں وہ سفر کررہے تھے،وہ کمیشن کی ملکیتی تھی اسی وجہ سے وہ بھاگ نکلے.

دوسری جانب مدینہ منورہ میں کمیشن کے دفتر کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ الزہرانی کا کہناہے کہ افسروں کو اس جوڑے کے کردار اور حرکات وسکنات پر شک گزراتھا جس کی بنا پر مرد کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن اس نے انکار کردیا اور جب افسر اسے روکنے میں کامیاب ہوگئے تواس کے ساتھ بیٹھی عورت بھاگ نکلی اور اس کی جگہ اس کی بیوی نے لے لی.

اس جوڑے نے اس الزام کی تردید کی ہے اورخاوند کا کہنا ہے کہ وہ کمیشن کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی یعنی ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرے گا.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: