ناشویلی ٹینی سی .ایجنسیاں
امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواربارک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لئے اس پر مزید سخت پابندیاں عاید کریں گے جبکہ بارک اوباما نے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کی پاکستانی علاقے میں موجودگی کی اطلاع پر انہیں ہلاک کرنے کےلیے پاکستان میں کارروائی کریں گے-
بیل مونٹ یونیورسٹی ،ناشویلی ٹینی سی میں دوسرے مباحثے کے دوران دونوں صدارتی امیدواروں نے وعدہ کیا کہ وہ حالیہ مالیاتی بحران کے بعد خوف کاشکارامریکی مڈل کلاس کی مدد کریں گے.لیکن انہوں نےامریکا کے مالیاتی اداروں اور معیشت کی بحالی کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف نکتہ نظر پیش کیا.
سینٹر جان مکین نے کہا کہ ''امریکی اپ سیٹ اور غصے میں ہیں اور وہ خوفزدہ بھی ہیں.ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد اور اعتبارنہیں رہا ''.
مکین نے مالیاتی مسائل سے دوچار امریکیوں کے لئے محکمہ خزانہ کے زیرانتظام حکومت کا نیا پروگرام تجویز کیا جس کے تحت گھریلو مالکان کے ذمہ واجب الاداقرضے خرید لئے جائیں گے اورقرضوں کی رقوم کو مقررہ شرح سےتبدیل کردیا جائے گا.
جان مکین کی مہم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام پر 300ارب ڈالرز کی لاگت آئے گی.دوسری جانب کانگریس میں ڈیموکریٹس ارکان ایک عرصہ سے قرض خواہ گھروں کے مالکان کی مدد کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کررہے ہیں.
اوباما کا کہناتھا کہ مڈل کلاس ورکرز صرف وال سٹریٹ ہی سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان کے لئے ٹیکس کٹوتیوں سمیت ایک امدادی پیکج کی ضرورت ہے .انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ وال سٹریٹ کے ایگزیکٹوز کو بحران کا شکار کمپنیوں سے بونس واجبات کا فائدہ نہ اٹھائیں.
اپنے دوسرے مباحثے کے دوران جان مکین اور بارک اوباما کا متعددمرتبہ ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف رائے ہوا لیکن دونوں صدارتی امیدواروں نے ووٹروں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے معاشی تحفظات کا خیال رکھیں گے.
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بارک اوباما نے کہاکہ سب سے بڑا مسئلہ مالیاتی اداروں کی ڈی ریگولیشن ہے۔ معاشی بحران کے حل کے لئے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ بیل آؤٹ پلان سے متوسط طبقے کو فائدہ پہنچنا چاہئے۔ ری پبلکن صدارتی امیدوارجان مکین نے کہا کہ ڈیمو کریٹس نے معاشی مسلے کے حل کے لئے قانون سازی کی حمایت نہیں کی اور اقتصادی اصلاحات کے لئے بار بار توجہ دلانے پر بھی بر وقت اقدامات نہہیں کئے جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سینیٹ میں بے تحاشہ اخراجات کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ ریسکیو پیکیج کے تحت مڈل کلاس امریکیوں کو دوبارہ روزگار کے مواقع فراہم ہونا چاہئے۔
بارک اوباما نے انرجی پالیسی کے حوالے سے کہا کہ دس سال میں غیر ملکی تیل پر انحصار کم کیاجاسکتا ہے ۔تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ایران، روس اور وینزیلا کو فائدہ ہو رہا ہے۔ جبکہ جان مکین نے کہا کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرنا ہوگا تاکہ غیر ملکی تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔۔
 |
ایران پر پابندیاں جان مکین اور بارک اوباما نے کہا کہ وہ امریکا کا صدر منتخب ہونے کی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لئے اس پر مزید سخت پابندیاں عاید کریں گے.
دونوں صدارتی امیدواروں نے اپنی اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے مختلف نکتہ نظر پیش کیا .لیکن دونوں کااس بات سے اتفاق تھا کہ ایران کو جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے.
''ہم ایران کو جوہری بم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ اس طرح وہ خطے میں کھیل کا پانسا پلٹنےوالا ملک بن جائے گا.جوہری بم کے حصول کے بعد ایران نہ صرف اسرائیل کے لئے خطرہ ہوگا بلکہ اس سے اس بات کا بھی امکان ہے کہ جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں''.اوباما کا کہنا تھا.
ان کا کہنا تھا کہ وہ اگر 4نومبر کو منتخب ہوگئے تو ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عایدکرے گی. جان مکین کا کہناتھاکہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کئے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی جس سے خطے کے استحکام اور اسرائیل کی سکیورٹی کوخطرات لاحق ہوجائیں گے.
''اگر ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دیں گے تو دوسرے ممالک بھی ان ہتھیاروں کے حصول میں لگ جائیں گے جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا اس لئے ہم کبھی دوسرے ہولوکاسٹ کی اجازت نہیں دے سکتے''.ان کا مزید کہنا تھا. |
 |
افغانستان،پاکستان،عراق جان مکین اور بارک اوباما کے درمیان دوسرے مباحثے میں ایک مرتبہ پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے واضح اختلاف رائے پایا گیا.
اوباما نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ''اگر اس علاقے میں اسامہ بن لادن ہماری نظروں میں آگئے اور پاکستانی حکومت ان کے خلاف کارروائی کے قابل نہ ہوئی یا اس نے نارضامندی کااظہار کیا تو میرے خیال میں ہمیں کارروائی کرناہوگی اور انہیں پکڑنا ہوگا''.
''ہم اسامہ بن لادن کو ہلاک کریں گے .ہم القاعدہ کو تباہ کردیں گے جو ہماری سب سے بڑی سکیورٹی ترجیح ہے''ایلنائے سے تعلق رکھنے والے سینٹر کا کہنا تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں تو پھر اسے ہلاک کرنے کےلیے وہ پاکستان میں ضرور کارروائی کریں گے-
ان کے ری پبلکن حریف جان مکین نے کہا کہ اوباما نے یہ اعلان کیا ہے وہ پاکستان پر حملہ کریں گے.سینٹر اوباما بلند آہنگ انداز میں باتیں کرنا پسند کرتے ہیں لیکن ان کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے سے پاکستان میں ہمارا کوئی اتحادی نہیں رہے گا بلکہ سرحدپارسے پاکستان پر حملے سے پاکستانی رائے عامہ امریکا کے خلاف ہوجائے گی''.
جان مکین نے کہا کہ وہ سینیٹر بارک اوباما کے برعکس اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کےلیے پاکستانی حکومت اور عوام کا تعاون چاہیں گے۔ان کا کہناتھاکہ ''ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ،پاکستانی ہمارے ساتھ مل کر کام کریں اور طالبان اور دوسروں کے خلاف ہمارا ساتھ دیں''.
بارک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ''ہم نے ایک سے ملک پر حملہ کیوں کیا جس کا نائن الیون کے حملوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا .وہ عراق پر امریکی حملے اور گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا پر دہشت گردی کے حملوں کا حوالہ دے رہے تھے. |
 |
دارفورنوفلائی زون ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بارک اوباما نے کہا کہ وہ منتخب ہونے کی صورت میں سوڈان کے جنگ زدہ علاقے دارفور کے اوپر نوفلائی زون کا نفاذ کریں گے.
انہوں نے کہا کہ''اس لمحہ دارفور میں ایک امن فوج تعینات ہے اور وہاں افریقی یونین کے فوجی موجود ہیں جنہوں نے نسل کشی کو روک دیا ہے''.
ان کاکہناتھا کہ ہم لاجسٹک مدد مہیا کرسکتے اورکم اخراجات سے ایک نوفلائی زون قائم کرسکتے ہیں اور یہی وہ منصوبہ ہے جس پروہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں عمل درآمد کرناچاہیں گے. |
