اوسلو،ناروے.ایجنسیاں
فن لینڈ کے سابق صدر مارٹی احتساری کومشرق وسطیٰ ،ایشیا اورافریقہ سے یورپ تک عالمی تنازعات طے کرنے میں اہم کردار اوران کی انتھک کوششوں پراس سال کا امن نوبل انعام دیا گیا ہے.
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ناویجئین نوبل کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کمیٹی نے مارٹی احتساری کو گذشتہ تین عشروں کے دوران بین الاقوامی تنازعات طے کرنے کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2008ء کا نوبل امن انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے.
بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ان کی کوششوں کے نتیجے میں دنیا میں ایلفریڈ نوبل کے نظریے کے مطابق امن کے قیام اور قوموں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملی ہے.مارٹی احتساری نے افریقہ،یورپ ،ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لئے جو کاوشیں کی ہیں،ان کوپانچ رکنی نوبل کمیٹی نے بہت سراہاہے''.
''گذشتہ بیس سال کے دوران انہوں نے دنیا میں متعدد طویل عرصہ سے تصفیہ طلب سنجیدہ تنازعات کو طے کرنے کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں''.بیان میں ان کی امن کے فروغ کے حوالے سے خدمات کا حوالہ دیا گیا ہے جو نیمبیا اور آچے میں تنازعے سے کوسوواور عراق تک پھیلی ہوئی ہیں.
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فن لینڈ کے سابق صدر نے شمالی آئیرلینڈ،وسط ایشیا اور صومالیہ کے تنازعات کو طے کرنے کے لئے بھی مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے.
احتساری نے ناروے کے این آر کے ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کا کہا کہ انہیں نوبل امن انعام وصول کرکے بہت خوشی ہورہی ہے اور انعام کے ساتھ ملنے والی رقم سے وہ امن کوششوں کو آگے بڑھا سکیں گے.
71 سالہ احتساری کا سیاسیات اور امن کوششوں کے حوالے سے ایک طویل کیرئیر ہے.انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر کا آغازپرائمری سکول کے ایک استاد کی حیثیت سے کیا تھا اور 1965ء میں فن لینڈ کی وزارت خارجہ میں شمولیت اختیار کی .وہ بیس سال تک مختلف ملکوں میں سفارتی خدمات انجام دیتے رہے.وہ تنزانیہ اور اقوام متحدہ، نیویارک میں اپنے ملک کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے.
وہ 1987ءسے 1991ء تک اقوام متحدہ میں انتظامیہ کے انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ رہے اور 1990ء میں اقوام متحدہ کے نیمبیا کے لئے مشن کے سربراہ تھے اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں اسی سال نیمبیا کو آزادی ملی تھی.
اگست 2005ء میں مارٹی احتساری نے انڈونیشیا کے صوبے آچے سے تعلق رکھنے والے باغیوں اور انڈونیشی حکومت کے درمیان فن لینڈ میں امن بات چیت میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں آچے میں گذشتہ تیس سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے ہلیسنکی میں فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا.
2007ء میں فن لینڈ میں احتساری کے دفتر ......کرائسس مینجمنٹ انشی ایٹو.......نے عراق کے سنی اور شیعہ گروپوں کے درمیان جنگ زدہ ملک میں امن کے قیام کے لئے خفیہ ملاقاتیں کی تھیِ.
