لندن .ایجنسیاں
برطانوی فوج کے سربراہ سرجاک سٹرپ نے کہا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی فوجی مشن کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا .انہوں نے یہ بات ہفتہ کوبرطانوی اخبار ''دی ٹائمز'' میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے.
ان سے پہلے افغانستان میں برطانیہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر بریگیڈئیرمارک کارلیٹن سمتھ نے بھی گذشتہاتوار کو ایک انٹرویو میں یہی بات کہی تھی .ان کاکہنا تھا کہ طالبان کے خلاف جنگ جیتی نہیں جاسکتی اورلوگوں کو کسی فیصلہ کن فوجی فتح کی امیدرکھنی چاہئے اورنہ جنگ کے خاتمہ کے بارے میں کوئی بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنی چاہیئں.
برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف ائیر چیف مارشل مارک سٹرپ نے اپنے انٹرویومیں واضح لفظوں میں اعتراف کیا کہ عراق اور افغانستان میں برطانوی فوجی ایک ایسی مہم پر ہیں، جو کبھی ختم نہیں ہوگی.
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں، جہاں سات ہزار آٹھ سو فوجی طالبان جنگجوٶں سے نبرد آزما ہیں،جنگ کی جیت یا ہارکا کوئی سوال نہیں ہے.عراق میں برطانیہ کے چار ہزار ایک سو فوجی تعینات ہیں .سٹرپ کا کہنا تھا کہ عراق میں عراقی فورسز اکیلے ہی سکیورٹی کی صورت حال پر قابو پانے کے قریب تر ہیں لیکن افغانستان میں کامیابی کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا.
58 سالہ برطانوی فوجی سربراہ نے کہا کہ ''افغانستان ایک بہت پسماندہ ملک ہے اور فوجی لحاظ سے ہمیں اپنا منصوبہ ختم کرنے میں چند سال اور لگیں گے''.سٹرپ نے کہا کہ لوگوں کو افغانستان میں ہم جو کچھ حاصل کر سکتے ہیں،اس کے بارے میں اپنی توقعات تبدیل کر لینی چاہئیں اور ہمیں افغان جنگ کے تناظر میں فتح یا شکست کے الفاظ استعمال کرنےسے گریز کرناچاہئے.
ان کا کہنا تھا کہ ''یہ فتح یا شکست کا معاملہ نہیں بلکہ افغان عوام کی مدد کرناہے تاکہ وہ اپنے ملک کو جدید دنیا کی جانب آگے بڑھانے کے لئے پیش قدمی کرسکیں.یہ ایک طویل سفر ہے جس میں کامیابی کا تعین ہر سال ہونے والی پیش رفت سے کیا جاسکتا ہے''.
برطانوی فوج کے سربراہ اس بات میں بھی یقین نہیں رکھتے کہ افغانستان کی طرح عراق میں بھی فوجی فتح کا اعلان کیا جاسکتا ہے.''یہ چیزیں بہت زیادہ پیچیدہ ہیں .دونوں ملکوں کی صورت میں اگر آپ کسی ایک ملک میں ترقی کی بات کر رہے ہیں تو یہ ایک سفر ہے جس کا کبھی اختتام نہیں ہوگا''.ان کا کہنا تھا.
''افغانستان اور عراق میں فوجی مشن کا مقصد وہاں کی حکومتوں کونظم ونسق اور حکمرانی میں مدد دینا ہے جس کے ذریعے وہ عوام کی حالت بہتر بنا سکیں''.انہوں نے مزید کہا .
''یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اس کا انتظامی صلاحیت،فوجداری نظام انصاف،پولیس اور ڈھانچے کی بہتری سے تعلق ہے .ہماری مسلح افواج اس لئے وہاں موجود ہیں تاکہ ایک ایسی فضا قائم کی جاسکے جس میں مسائل کے سیاسی اور دوسرے حل تلاش کئے جاسکیں''.ان کا کہنا تھا.
جب برطانوی فوج کےسربراہ سے پوچھا گیا کہ کیاعراق جنگ جیت لی گئی ہے یا کامیاب رہی ہے تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے،اس پران کا جواب تھا کہ اس بات کا فیصلہ ہمیں مورخیں پر چھوڑ دینا چاہئے.
ائیر چیف مارشل جاک سٹرپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ شہزادہ ولیم اورشہزادہ ہیری کوجہاں ممکن ہو،اگلے جنگی محاذوں پر لڑائی میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہئے.واضح رہے کہ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے دونوں بیٹے برطانوی فوج میں افسر ہیں.
