واشنگٹن.ایجنسیاں
امریکانے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی ایٹمی تنصیبات کے معائنے سے متعلق بش انتظامیہ کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے ہیں جس کے بعد اس کا نام دہشت گرد ممالک کی بلیک لسٹ سے خارج کیا جارہا ہے.
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے ہفتہ کے روز واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ امریکی اور شمالی کوریائی حکام کے درمیان بات چیت کے بعد شمالی کوریا کی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کے لئے سمجھوتہ طے پاگیا ہے.
معاہدے کے تحت شمالی کوریا جوہری ماہرین کو اپنی تمام علانیہ اور غیرعلانیہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے گا جو وہاں سے نمونے حاصل کرنے کے علاوہ فورنیسک ٹیسٹ کرسکیں گے.شمالی کوریا نے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی اورمبینہ یورینیم افزودگی پروگرام سے متعلق جو کچھ کہا ہے ،اس کی تصدیق کی بھی اجازت دے گا.
واضح رہے کہ امریکا کی دہشت گردی کوفروغ دینے والے ممالک کی فہرست میں اب کیوبا،ایران ،شام اور سوڈان کے نام رہ گئے ہیں جن پر امریکا کی جانب سے سخت پابندیاں عاید ہیں.تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا نام اس فہرست سے خارج ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ اس پر دوسرے پروگراموں کے تحت پابندیاں عاید ہیں.
امریکا نے شمالی کوریا کا نام دہشت گردی کوفروغ دینے والے ممالک کی فہرست سے ایسے وقت میں خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب شمالی کوریا نے چند ہفتے قبل اپنے ناکارہ نیوکلئیر ری ایکٹر میں دوبارہ کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور بعض اشتعال انگیز اقدامات کئے تھے جن میں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ملک سے نکال باہر کرنا اور میزائل تجربات بھی شامل ہیں.
یادرہےکہ صدر بش نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعداپنی ایک تقریر میں ایران اور عراق کے ساتھ شمالی کوریا کو بھی ''برائی کا محور'' ملک قرار دیا تھا.
