پشاور میں ایران کے کمرشل اتاشی اغوا، محافظ قتل
سرحد میں دو روز میں رونما ہونے والا دوسرا واقعہ ہے
پاکستان کےشمال مغربی سرحدی صوبے کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد سے ایرانی قونصل خانے کے کمرشل اتاشی اطہر زادے کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اطہر زادے کو اپنے گھر سے یونیورسٹی روڈ پر واقع دفتر کے لئے جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔
پشاور پولیس نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ دفترجاتے ہوئے نامعلوم افراد نے ایرانی سفارتکار کو روکا اور اغوا کرلیا. اس دوران مزاحمت پر ان کے پولیس گارڈ کو فائرنگ کرکے شہید کردیاگیا۔
دوسری جانب ایرانی قونصل خانے کا کہنا ہے کہ انہیں بھی سفارتکار کے اغوا کی اطلاع ملی ہے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
پاکستانی قیادت کی مذمت
داریں اثنا پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نےایرانی قونصل خانے کے کمرشل اتاشی حشمت اطہر زادے کے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص خراب کرنے کی سازش قراردیا ہے۔
وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے مشیر داخلہ رحمان ملک اور سرحد حکومت کو یرغمال بنائے گئے سفارت کار کی بازیابی کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سفارتکاروں کا اغوا
گزشتہ روز پشاور کے علاقے ٹاؤن میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے کام کرنے والی امریکی تنظیم کے ایک سربراہ کو ڈرائیور سمیت فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
امریکی شہری کا نام سٹیفن وانس بتایا جارہا ہے اور وہ امریکی یو ایس ایڈ کے تحت چلنے والے’فاٹا لائیولی ہڈ ڈویلپمنٹ پروگرام‘ میں’ لوئر ایریا‘ کے ڈائریکٹر تھے۔ لوئر ایریا میں جنوبی اور شمالی وزیرستان، کرم اور اورکزئی ایجنسی وغیرہ آتے ہیں۔
پشاور میں حالیہ مہینوں میں غیر ملکی سفارت کاروں اور دیگر افراد کے اغوا کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ قریباً دوماہ قبل پشاور میں نامزدافغان سفیرعبد الخالق فراحی کو نامعلوم افراد نے حیات آباد سے اغواء کرکے ان کے ڈرائیور کو قتل کیا تھا۔ افغان سفیر بدستور لاپتا ہیں۔