پنجاب میں پانچ بہنیں، پانچ بھائیوں سے بیاہی گئیں
یہ شادیاں پاکستان کے مضبوط خاندانی نظام کی مثال ہیں
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع لیہ میں پانچ بہنیں پانچ بھائیوں سے بیک وقت بیاہی گئیں۔ پانچ شادیوں کے بعد بھی تمام افراد خانہ ایک ہی گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ پانچ بھائیوں اور پانچ بہنوں کے درمیان کزن میرج ہوئی۔
لیہ کے اس خاندان کے بزرگ عبدالحمید کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کی اولادوں کے آپس میں رشتے کرکے انہیں متحد کردیا، ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے خاندان تقسیم ہو رہے ہیں اور انہوں نے خونی رشتے برقرار رکھنے کے لئے یہ سب کیا ہے۔
گجر برادری سے تعلق رکھنے والے اس بھرے کنبے کے لئے گھر میں ایک ہی کچن ہے، جہاں سب کیلئے کھانا تیار ہوتا ہے۔ اس فیملی کا کاروبار ڈیری سے وابستہ ہے، لیکن انہوں نے تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا، ان کی اولاد میں ڈاکٹر، انجنیئر اور پروفیسر بھی ہیں۔
نئے شادی شدہ جوڑوں کو گھر میں ایک ایک کمرہ دیا گیا ہے، وسیع وعریض صحن میں ہر وقت رونق لگی رہتی ہے۔ گھر میں پانچ شادیوں کا جشن ڈھول بجا کر اور خوشی کے گیت گا کر منایا گیا۔ پانچوں دولہوں کی باراتیں اکٹھیں گئیں اور ولیمےکی تقریب بھی ایک ہی روز ہوئی۔
جدید دور میں نت نئی ضروریات اور خواہشوں کی دوڑ نے رشتے کمزور کردیئے ہیں، اس خاندان نے رشتوں کا بھرم قائم رکھنے کیلئے ایک مثال قائم کی ہے۔ پانچ بھائیوں کی پانچ بہنوں کے ساتھ شادی نہ صرف پاکستان میں مضبوط خاندانی نظام کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ بھی ہے۔