ڈیرہ اسماعیل خان .پاکستان .ایجنسیاں
پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شیعہ عالم دین کے جنازے پر جمعہ کو بم حملہ کیا گیا ہے جس میں دس افراد جاں بحق اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں .
صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بم دھماکے میں دس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں.تاہم شہر کے بڑے سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس چالیس زخمی لائے گئے ہیں.
ایک شیعہ شخص کو گذشتہ روزقتل کردیا تھا اور جمعہ کی صبح کو ایک شیعہ عالم دین کو بھی قتل کردیا گیا تھا اوران کے جنازے قبرستان لے جائے جارہے تھے کہ شرکاء پر بم حملہ کیا گیا.
ایک عینی شاہد توقیر زیدی نے بر طانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ''ہم تدفین کے لئے قتل ہونے والوں کی میتیں قبرستان کی جانب لے کر جارہے تھے کہ اچانک بم دھماکا ہوگیا''.فوری طور پریہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ خودکش بم حملہ تھایا بم جنازے کے راستے میں نصب کیا گیا تھا.
بم دھماکے کے بعد سرکاری ہسپتال کے باہر مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پولیس نے صورت حال پر قابوپانے کے لئے آنسو گیس کے شیل پھینکے اورہوائی فائرنگ کی.
واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں آئے دن فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں گذشتہ برسوں کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں.
