غزہ،عمان.العربیہ.نیٹ،ایجنسیاں
غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے کہا ہے کہ اگراسرائیل مثبت جواب دے تووہ جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد جاری رکھنےکوتیارہیں.
غزہ میں حماس کے رہ نما اسماعیل ہنئیہ نے جمعہ کو کہا ہے کہ انہوں نے گذشتہ دوروز کے دوران مزاحمتی تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کی ہے اور انہوں نے بالکل کھل کراپنے موقف کا اظہار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے تو وہ بھی اس پرعمل درآمد کو تیارہیں.
اسرائیل اورحماس دونوں نے اس بات کے اشارے دئیے ہیں کہ وہ مصرکی ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی بحالی چاہتے ہیں اس معاہدے پر 19 جون کوعمل درآمد شروع ہوا تھا اور اس میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ راکٹ اور دوسرے حملے روک دے جبکہ اسرائیل جواب میں غزہ کی بتدریج ناکہ بندی ختم کردے گا.لیکن اسرائیل نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور اس نے گذشتہ سال جون سے مسلسل غزہ کا محاصرہ کررکھا ہے .
اسرائیل نے 4نومبر کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں دراندازی کی تھی اور فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس کے جواب میں فلسطینیوں نے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ فائرکئے تھے لیکن ان سے کوئی یہودی ہلاک نہیں ہوا تھا جبکہ اسرائیلی فوج کی گذشتہ دوہفتے کے دوران جارحانہ کارروائیوں میں پندرہ فلسطینی شہید ہوچکےہیں.
 |
حماس بمقابلہ فتح فلسطینی صدر محمود عباس نے گذشتہ سال جون میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کے بعد اس کی حکومت ختم کردی تھی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی جماعت فتح کی نئی حکومت قائم کردی تھی.اب فلسطینی صدر کا کہناہے کہ وہ 2010 تک برسراقتدار رہیں گے لیکن ان کے اس فیصلے سے فتح کی حماس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے.
محمود عباس کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدراور قانون ساز کونسل کے انتخابات ایک ساتھ 2010 میں ہونے چاہئیں. دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ محمودعبا س کی آئینی مدت 9 جنوری 2009ء کو ختم ہوجائے گی.
حماس کے عہدے مشیر المصری نے غزہ میں ہفتہ کو ہزاروں افراد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''9جنوری کو رات بارہ بجے فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کی مدت ختم ہوجائے گی اورمحمود عباس فلسطینی عوام کے صدر نہیں رہیں گے''.
انہوں محمودعباس کی حکومت پر اسرائیلیوں کو رعایتیں دینے کا الزام عاید کیا اورکہا کہ اسے جس طرح غزہ سے نکال باہر کیا گیا تھا اسی طرح مغربی کنارے سے بھی نکال باہرکیاجائے گا.واضح رہے کہ 2006ء کے عام انتخابات میں حماس نے فتح کو شکست سے دوچار کیا تھا. |
 |
اردن میں احتجاج اردن کے دارالحکومت عمان میں ہزاروں افراد نے اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ڈیڑھ سال سے غزہ کے فوجی محاصرے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا .
تین ہزار سے زیادہ مظاہرین نے عمان میں فلسطینیوں کے الوحدت پناہ گزین کیمپ میں ریلی نکالی .انہوں نے حماس کے حق میں نعرے بازی کی اور امریکا اور اسرائیل کے پرچم نذرآتش کئے.مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مزاحمت کی حمایت کی گئی تھی اور فلسطینی سر زمین پرصہیونی قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا.
اردن کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعت اسلامی محاذعمل کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ حمزہ منصور کا کہناتھا کہ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے.
ان کا کہنا تھا کہ اگر غزہ میں صورت حال تبدیل ہوتی ہے تو عرب حکمرانوں کو ایک زلزلے کی امید رکھنی چاہئے جو ان کے ملکوں اور حکومتوں کو ہلا کر رکھ دے گا.
مظاہرے کا اہتمام اردن میں اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ اسلامی محاذ عمل نے کیا تھا .بدھ کو بھی جماعت نے اسی طرح کے مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا.اس جماعت اس ماہ کے آغاز میں اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کے لئے امدادی سامان لے کرعقبہ کی بندگاہ سے غزہ جانے کا اعلان کیا تھا. |
