اسلام آباد.ایجنسیاں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈآئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے سات ارب 60 کروڑڈالرز کے قرضہ کی منظوری دے دی ہے اور کہا ہے کہ تین ارب دس کروڑ ڈالرز کی پہلی قسط بہت جلد مالی بحران سے دوچار ملک کو منتقل کردی جائے گی.
آئی ایم ایف نے گذشتہ ماہ جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ حالیہ مہینوں کے دوران سیاسی عدم استحکام ،تشدد کے واقعات اور تیل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے پاکستان کی معیشت زوال کا شکار ہوئی ہے.
آئی ایم ایف کے قائم مقام چئیرمین ٹاکاٹوشی کاٹونے سوموارکو واشنگٹن میں ادارے صدر دفاتر سے جای بیان میں کہا ہے کہ ''پاکستان کو بھاری مالی امداد دے کرعالمی مالیاتی ادارہ ڈونر کمیونٹی کو اس ملک کے میکرو اکنامک اشاریوں کی بہتری کا اشارہ دے رہا ہے''.
واضح رہے کہ کی پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ہچکچا رہی ہے لیکن جب اس کے قریبی اتحادی ممالک امریکا ،چین اور سعودی عرب نے بھی براہ راست مالی امداد دینے کی درخواست مسترد کردی تو اس کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا .
نومبر کے وسط میں آئی ایم نے اعلان کیا تھا کہ اس کا پاکستان کو امدادی پیکج دینے کے لئے معاہدہ طے پاگیا ہے.حکومت پاکستان نے بھی 15نومبرکواعلان کیاتھا کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈسے سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کا قرضہ لے گی اور اس سلسلہ میں معاہدہ طے پاگیا ہے.واضح رہے کہ عالمی مالیاتی بحران کے بعد ایشیا کے کسی ملک کے لئے آئی ایم ایف کی جانب سے یہ پہلا امدادی پیکج ہے.
وزیراعظم پاکستان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کراچی میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ امدادی پیکج میں ملنے والی قرضہ کی رقم کودرآمدات کے ضمن ادائیوں کا توازن بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا. پاکستان کو اس وقت اپنا ادائیوں کا توازن درست کرنے کے لئے ساڑھے چار ارب ڈالرز رقم کی ضرورت ہے.
مشیر خزانہ کا کہناتھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ملنے والے قرضہ پرسود کی شرح 3.51 فی صد سے 4.51 فی صد ہوگی .قرضے کی رقم 2011ءسے واجب الادا ہوگی اور پاکستان پانچ سال کی مدت میں قرضہ کی رقم واپس کرے گا.شوکت ترین کا کہناتھا کہ عالمی مالیاتی بحران اور اندرونی مسائل کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔خاص طور پر گذشتہ مہینوں کے درمیان ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے.اکتوبر 2007ء میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب 40 کروڑ ڈالرز تھے جو اب سات ارب ڈالرز سے بھی کم رہ گئے ہیں.
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے بجٹ میں جو اہداف رکھے ہیں قریباً وہی اہداف آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں بھی رکھے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ حکومت کو اپنے اخراجات اور بجٹ خسارہ کم کرنا پڑے گااور حکومت مرکزی بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بند کردے گی .اگر یہ اہداف پورے کر دیے گئے تو آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر ہم پورا اتریں گے۔
آئی ایم ایف کڑی شرائط پر قرضے دیتا ہے اور بالعموم حکومت کی جانب سے مختلف اشیاءپردی جانے والی سب سڈی( زرتلافی) کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن سمیت مختلف سیاسی جماعتیں اور شہری تنظیمیں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی مخالفت کرتی رہی ہیں.
