پاک فضائیہ جاسوس طیاروں کوروکنے کی صلاحیت رکھتی ہے:ائیر چیف

جارحیت کرنے والوں کی مزاحمت کا حکم دینا حکومت کا کام ہے

نشر في:

پاکستان ائیر فورس کے سربراہ ائیرچیف مارشل تنویرمحمود احمد نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے .اب یہ فیصلہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کب ہماری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے اور وہ ملک کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کرنے والوں کی مزاحمت کا حکم دیتی ہے.

وہ منگل کوکراچی میں دفاعی سازوسامان کی نمائش آئیڈیاز 2008 کے دورہ کے موقع پر میڈیا سےگفتگو کر رہے تھے.انہوں نے بتایا کہ آئندہ پانچ سے سات سال میں پاک فضائیہ کے دو تہائی جنگی طیارے اپنی طبعی عمر پوری کرلیں گے جس کی بعد ان کی جگہ فلیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کو شامل کیا جائے گا.ان کا کہناتھا کہ پاک فضائیہ کے طیارے ہر قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

ائیر چیف مارشل تنویر محمود احمدنے کہا کہ پی اے ایف کے لئے چالیس سے بیالیس جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کی غرض سے آسان شرائط پر ستر سے اسی کروڑ ڈالرز کا قرضہ لینے کے لئے چینی حکومت اور نجی شعبے سے رجوع کیا جائے گا.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پہلے پاک فضائیہ کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا اور اس کے بعد جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کو برآمد کرنے پرغور کیا جائے گا.

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کے باوجود افغانستان کی سرحدکے ساتھ واقع قبائلی علاقوں پران حملوں کا سلسلہ بدستورجاری ہے.

امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے گذشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بیس سے زیادہ حملے کئے ہیں جن میں تین سوکے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں. گذشتہ بدھ کو ضلع بنوں میں میزائل حملہ کیا گیا تھا اورقبائلی علاقوں سے باہر صوبہ سرحد کے ایک بندوبستی ضلع میں امریکا کا یہ پہلا میزائل حملہ تھا.

گذشتہ جمعرات کو پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ضلع بنوں میں بدھ کو امریکی جاسوس طیارے کے میزائل کی شدید مذمت کی تھی .وزیراعظم نے کہا تھا کہ ملک کے علاقوں میں امریکا کے بغیرپائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملے ناقابل برداشت ہیں اوران کی وجہ سے ہمارے لئے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے.

پاکستان کی کم وبیش تمام سیاسی جماعتیں متعدد مرتبہ ان حملوں کی مذمت کر چکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت میزائل حملوں پرامریکا سے سخت احتجاج کرے اور ملک کی مسلح افواج کو بھی اپنی سرحدوں کے تحفظ اور ان حملوں کی روک تھام کے لئے جوابی کارروائی کرنی چاہئے.