چیف جسٹس پاکستان کی بیٹی کواضافی نمبردینےکی تحقیقات کاآغاز
تعلیم کے وزیر مملکت کا تفصیلات بتانے سے انکار،اجلاس سے واک آؤٹ
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی بیٹی کوایف ایس سی کے امتحان میں اضافی نمبرز دیئے جانے کے معاملہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں کمیٹی کے چئیرمین عابد شیر علی کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے تعلیم غلام فرید کاٹھیا ، وفاقی ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن شاہین خان اور یہ خبر بریک کرنے والے سینئر صحافی انصار عباسی بھی شریک تھے۔
وزیر مملکت برائے تعلیم نے معاملے کی تحقیقات پر اعتراض کرتے ہوئے اسے قواعد کے خلاف قرار دیا. تاہم کمیٹی کے چیئرمین نے اس سے اتفاق نہیں کیا ۔انہوں نے وزیر مملکت برائے تعلیم پر اظہار برہمی کرتے ہوئے انہیں کمیٹی کی کارروائی پر اثر انداز نہ ہونے اور اجلاس سے چلے جانے کا مشورہ دے دیا ۔
اجلاس میں چیف جسٹس کی بیٹی فرح حمید ڈوگرکے معاملے پرگرما گرم بحث ہوئی .وزیرمملکت برائے تعلیم کا موقف اختیارتھا کہ اجلاس کے ایجنڈے کے لئے ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور میڈیا کی موجودگی میں اس معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ نہیں دی جا سکتی۔
چیئرپرسن وفاقی تعلیمی بورڈ نے بھی موقف اختیار کیا کہ کہ وہ وزارت تعلیم کی اجازت کے بغیر کمیٹی کو بریفنگ نہیں دے سکتیں ۔بورڈ کی چیئرپرسن بعد میں اجلاس سے احتجاجا ًاٹھ کر چلی گئیں جبکہ سینئر صحافی انصار عباسی کی اجلاس میں موجودگی کے خلاف وزیر مملکت برائے تعلیم غلام فرید کاٹھیا نے بھی احتجاج کیا اور وزارت کے حکام کے ہمراہ اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے ۔
اجلاس کے بعد عابد شیر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹ لوگوں کو بے نقاب اوراختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کسی سے ڈکٹیشن نہیں لے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کے موقراخبارروزنامہ جنگ نے منگل کو اپنی اشاعت میں ثانوی اوراعلیٰ ثانوی وفاقی تعلیمی بورڈ کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے جج کی صاحبزادی کو غیر قانونی طورپراضافی نمبر دے کر ان کے امتحانی نتیجے کو بہتربنانے کی رپورٹ شائع کی تھی .
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آئی ایس ای کے تحریری احکامات اور نامناسب عجلت میں تمام قواعد کی خلاف ورزی کرکے، حتیٰ کہ اعلیٰ عدالت کے کچھ فیصلوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرح حمید ڈوگر کے ایف ایس سی کے نتیجے کو بہتر بنا کر گریڈ ” سی “ کو ” بی “ گریڈ میں تبدیل کیا گیا ہے اور اس طرح انہیں ملک میں کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست دینے کیلئے اہل بنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد بورڈ نے فرح حمید ڈوگر کے معاملے میں معمول سے ہٹ کرجوابی کاپیوں کی دوبارہ چیکنگ کاعمل نہایت تیزی سے مکمل کیا ہے اوران کو فائدہ پہنچانے کیلئے 642 سے 660 کے درمیان نمبر لینے والے ہزاروں طالب علموں سے انہیں آگے کردیا گیا ہے.
اس معاملہ کے منظرعام پر آنے کے بعد وفاقی تعلیمی بورڈ کے حکام اور چیف جسٹس عبد الحمید کو مختلف سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے .سابق وفاقی وزیر تعلیم اور مسلم لیگ ن کے رہ نما احسن اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ فرح ڈوگرکا غیر قانونی طریقے سے اضافی نمبر دینے کامعاملہ سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگراپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے اوراس میں ملوث بورڈ کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔