جوس،نائیجیریا.ایجنسیاں
نائیجیریا کے وسطی شہر جوس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مسلح گروپوں کے درمیان جمعہ سے جاری لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ملک کی سکیورٹی فورسز لڑائی پر قابو پانے کے لئے کوشاں ہیں اور مسلح افراد کو دیکھتے ہی گولے مارنے کا حکم دیا گیا ہے.
جوس کی جامع مسجد کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ شہر میں عیسائیوں کے حملوں میں جاں بحق ہونےوالے 367 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں. ترجمان مرتالہ سنی ہاشم نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرزکوبتایاکہ مسجد میں مرنے والوں کی لاشوں کو لانے کا سلسلہ جاری ہے.
جامع مسجد کے امام خالد ابوبکرکاکہناہے کہ فرقہ وارانہ تشددکے واقعات کے بعد چار سو کے قریب افراد کی لاشیں مسسجد لائی گئی ہیں .انہوں نے بتایا کہ لوگ مسجد میں آکر مرنے والے اپنے پیاروں کی لاشیں شناخت کر کے لے جارہے ہیں اور جن کی شناخت نہیں کی جا سکی ان کی مسجد کی انتظامیہ تدفین کرے گی.
حکام نے شہر میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا ہےاور فوج نے کرفیوپر عمل درآمد کویقینی بنانے کے لئے مزید دستے بھیجے ہیں.جوس ریاست پلاٹو کا دارالحکومت ہے اورریاست کے گورنر نے شہر کے فسادہ زدہ علاقوں میں کرفیوکے نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے فوج کو کسی بھی مسلح شخص کو گولی مارنے کا حکم دیا ہے.
ریڈکراس نے کہا ہے کہ جوس شہر میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور گذشتہ کئی سال کے بعد اتنے برے حالات دیکھے گئے ہیں.مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر بھی حملے کررہے ہیں .
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے .ان میں متعددکی تدفین کر دی گئی ہے اوربیسیوں کی لاشیں ہیسپتالوں میں پڑی ہیں.
گذشتہ سال صدر عمرویار کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدترین فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اورانہوں نے سرکاری عمارتوں اور مذہبی مراکز میں پناہ لے رکھی ہے.
نائیجیریا کی ریڈکراس کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ ''لڑائی کے نتیجےمیں دس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور اب وہ گرجا گھروں ،مساجد اور فوج ا ور پولیس کی بیرکوں میں پناہ حاصل کر رہے ہیں.
انہوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرنے اوربے گھر ہونے والوں کے حتمی اعدادوشمار تو نہیں بتاسکتے لیکن ابھی بھی شہر کی گلیوں اور سڑکوں پرلاشیں پڑی ہیں جنہیں اگرفوری طور پر نہ اٹھایا گیا تو ان کے خراب ہونے سے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے.
جوس میں ہاٶسا مسلمانوں اوربرومس عیسائیوں کے درمیان جمعہ کی صبح لڑائی مقامی حکومت کے چئرمین کے انتخاب کے تنازعے پر شروع ہوئی تھی.
