پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
پیر 03 ذو الحجة 1429هـ - 01 دسمبر 2008م
غزہ کی ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی
اسرائیل نے غزہ آنے والا لیبیا کا امدادی جہازروک لیا
لیبیا کے جہاز پر تین ہزار ٹن امدادی اشیاء لدی ہوئی ہیں.فائل
 

غزہ.ایجنسیاں

اسرائیلی بحریہ نے سوموارکو لیبیا کے امدادی سامان سے لدے بحری جہازکوغزہ میں لنگر انداز ہونے سے روک دیا ہے.امدادی سامان اسرائیلی محاصرے کا شکار فلسطینیوں کے لئے لایا گیا ہے.

ایک فلسطینی رکن پارلیمنٹ جمال الخدری نے بتایا ہے کہ لیبیا سے غزہ کے لئے آنے والے جہاز پر تین ہزار ٹن امدادی سامان لدا ہوا ہے،اسے اسرائیلی بحریہ نے غزہ سےکئی میل دورروک دیا ہےاوراسے واپس مصرکی بندرگاہ العریش جانے کو کہا گیا ہے.

دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے جنگی بحری جہازوں اور لیبیا کے امدادی جہازکے درمیان کوئی ٹکراٶ نہیں ہوا ہے.اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان اینڈی ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ''اسرائیل کی غزہ کے محاصرے کے بارے میں پالیسی بڑی واضح ہے اوراس کو ہم مستقل طور پر مشتہر کرتے رہتے ہیں ''.ترجمان کا کہناتھا کہ لیبیائی جہاز کے عملے کو جب پتا چلا کہ اسرائیلی بحریہ علاقے میں موجود ہے تو اس نے کسی مڈبھیڑسے بچنے کےلئے واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے.

اسرائیل نے گذشتہ سال جون میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کے بعد سے اس کی بری اور بحری سرحدوں کی ناکہ بندی کررکھی ہے جس کی وجہ سے پندرہ لاکھ سے زیادہ فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اگر ان کے لئے فوری طور پرامدادی سامان نہ بھیجا گیا تو وہاں اقوام متحدہ کے نمائندوں کے بہ قول انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے.

اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں غزہ میں تشدد کے واقعات کے بعد سے محاصرہ مزید سخت کردیا ہے اور غزہ کی تمام سر حدی گزرگاہیں بھی بند کررکھی ہیں.واضح رہے کہ صہیونی ریاست ماضی میں امدادی سامان لے کر آنےو الے جہازوں کوغزہ میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دیتی رہی ہے.

لیبیا پہلا عرب ملک ہے جس نے فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان بھیجا ہے.اس سے پہلے اگست سے اب تک بعض یورپی سیاستدان اور فلسطینیوں کے حامی انسانی حقوق کے ادارے قبرص سے بحری سفر اختیار کر کے تین مرتبہ امدادی سامان لے کر غزہ پہنچ چکے ہیں.

لیبیا کے افریقہ میں ترقی اور امداد کے لئے فنڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری جہاز پر 12سوٹن چاول ،750ٹن خشک دودھ،500ٹن کھانا پکانے کاتیل،500ٹن آٹا اور 100ٹن ادویہ لدی ہوئی ہیں.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: