"سعودی اوباما" کی حرم مکہ میں بطور امام تقرری

امریکا میں خصوصی کوریج

نشر في:

امریکا سے شائع ہونے والے اخبارات نے اتوار کے روز حرم مکی کے نئے امام شیخ اسمر اللون عرف "سعودی اوباما" کے بارے میں تفصیلی فیچر شائع کئے ہیں۔ شیخ اسمر اللون خلیجی ممالک سے سعودی عرب بہتر مستقبل کی تلاش میں ہجرت کر کے آنے والے متوسط طبقے کے ایک غریب شخص کے فرزند ہیں۔

دو برس قبل دنیا کے مقدس ترین مقام، کعبہ اللہ، میں امامت کی سعادت الشیخ عادل الکبانی کے حصے میں آئی تھی۔ شیخ عادل نمازیوں میں اپنی دل موہ لینے والی تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے نہایت مقبول تھے۔

امریکی روزنامے "نیویارک ٹائمز" نے اپنے ہفتہ وار پروفائل سیکشن میں شیخ عادل الکبانی کا تعارف شائع کیا۔ اخبار کا یہ کالم ہر ہفتے دنیا کے مختلف ممالک میں نمایاں شخصیات کے تعارف سے مزین ہوتا ہے۔
#

حرم مکی میں بطور امام تقرری

اخبار کے مطابق، گذشتہ برس ستمبر میں اس وقت الشیخ عادل الکلبانی کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کے گھر کے فون گھنٹی بجی اور دوسرے طرف سے ان سے مخاطب شخص انہیں یہ خوشخبری دے رہا تھا کہ "خادم الحرمین الشریفین شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز نے آپ کو مکہ المکرمہ میں حرم میں امام مقرر کیا ہے۔
#"

"سعودی اوباما"

نیویارک ٹائمز کے مطابق شیخ عادل ازراہ مذاق خود کو "سعودی اوباما" کے طور پر دوستوں میں متعارف کراتے تھے۔

اخبار کے مطابق سعودی عرب میں مشہور اور سرکردہ علماء کی کمی ہیں تاہم ان کی بڑی تعداد نے شاہ عبد اللہ کے فیصلے کو سراہا ہے۔ علماء کے مطابق شیخ الکلبانی کی تعیناتی کی صورت میں خادم الحرمین الشرفین نے سعودی معاشرے میں اعتدال اور کھلے پن کو رواج دینے کی ایک مستحن کوشش کی ہے۔

الشیخ عادل کا کہنا ہے کہ "شاہ عبد اللہ ہم سے یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ وہ سعودی عرب کو ایک امت کے طور پر پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں تفرقہ بازی اور امتیازی سلوک کا کوئی شائبہ نظر نہ آئے۔

انچاس سالہ الشیخ عادل، جنہیں دارلحکومت ریاض میں بیس برس امامت کے فرائض دینے کا اعزاز حاصل رہا ہے، نے اپنی حرم قدسی کا امام مقرر کئے جانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اہل شخص، مملکت سعودی عرب میں بلا تفریق رنگ و نسل اعلی سے اعلی منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔