قاهرہ - راندا أبوالعزم/ مصطفى سليمان
جنوبی قاہرہ کی فوجداری عدالت نے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے معروف سیاستدان، رکن پارلیمنٹ اور ارب پتی تاجر ھشام طلعت مصطفی اور مصری پولیس کے سابق آفیسر محسن السکری کو لبنانی گلوکارہ سوزان تمیم کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ساٹھ دنوں میں اپیل کی جا سکتی ہے۔
سوزان تمیم کو دبئی کے ایک لگثرری اپارٹمنٹ میں 22 جولائی 2008ء کو قتل کر دیا گیا تھا
عدالت میں پیشی کے موقع پر ھشام طلعت نے عام سے کپڑے پہن رکھے تھے۔ عدالت سے واپسی پر محسن السکری اور ھشام کو پھانسی کے لئے مخصوص سرخ رنگ کی وردی پہنائی جائے گی۔ دونوں مجرموں کو الگ الگ کال کوٹھریوں میں رکھا جائے گا، جہاں انہیں کسی قسم کے تیز دھار آلے کو رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی تا کہ وہ خود کو پھانسی سے قبل نقصان نہ پہچنا سکیں۔
ذرائع کے مطابق ھشام طلعت کے وکلاء کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے کو موخر کرانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے وکیل فرید الدیب نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ وہ اپنے موکل کی صفائی کے لئے مزید وقت چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس نوعیت کے مقدمے کی سماعت کے بارے میں عدالت کے اختیار کو بھی چلینج کیا کیونکہ قتل کا ارتکاب دبئی میں ہوا جو متحدہ عرب امارات میں واقع ہے۔
عدالتی فیصلے کے متن کے مطابق حسن السکری کو اسلحہ رکھنے کے الزام میں دس برس قید بہ مشقت بھی سنائی گئی۔ جج المحمدی قنصوۃ نے قانون کے مطابق دونوں مجرموں کی فائل مفتی مصر کو ارسال کر دی ہے۔ مفتی اعظم مصر ڈاکٹر علی جمعۃ نے عدالت کی طرف سے سزائے موت کو پہلے ہی قانون کے مطابق قرار دیے دیا تھا۔
