انقلابی عدالت کا اصلاحیوں پر جاسوسی، مخملی انقلاب منظم کرنے کا الزام
اقبالی بیانات میں برطانیہ کے ملوث ہونے کے ثبوت
ایران کی انقلابی عدالت نے صدارتی انتخاب کے جلو میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں گرفتار کئے جانے والے اصلاح پسندوں پر امریکا کی خاطر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔ العربیۃ ٹی وی کے مطابق عدالت نے اصلاح پسند اسیران پر واشنگٹن سے ملکر "مخملی انقلاب" منظم کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
عدالت میں پیش کئے جانے والے متعدد ملزموں نے اپنے اقبالی بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکا میں تربیت حاصل کی۔ انقلابی عدالت نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ایرانی قومیتوں اور اقلیتوں کو حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے اکسایا۔ زیر حراست اصلاح پسند کارکنوں پر عدالت نے یہ بھی فرد جرم عائد کی انہیں "مخملی انقلاب" کے بارے میں خبریں بیرونی میڈیا کو فراہم کرنے کی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔
العربِیۃ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دس اصلاح پسند اسیروں کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان میں فرانسیسی اور برطانوی سفارتخانوں میں کام کرنے والے دو اہکار بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ ایک فرانسیسی خاتون استاد نے بھی عدالت میں اس امر کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا۔
برطانوی، فرانسیسی رد عمل
ادھر لندن نے ایران کی انقلابی عدالت میں تہران میں برطانوی سفارتخانے کے ایک اہلکار کی پیشی اور مقدمے کو "ناقابل قبول" قرار دیا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سفارتخانے میں کام کرنے والے برطانوی شہری حسین رسام کو ہفتے کے روز انقلابی عدالت میں بطور ملزم پیش کیا گیا ہے۔ یہ بات ہمارے لئے ناقابل قبول ہے اور اعلی ایرانی عہدیداروں کی جانب سے ہمیں متعدد بار کرائی جانے والی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے سامنے اپنے اقبالی بیان میں رسام نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اس نے گذشتہ پانچ برسوں میں سفارتخانے کو ایک سو تیس افراد جاسوسی کے لئے "بھرتی" کر کے دیئے۔ انتخابی مہم کے دوران ایسے ہی پچاس افراد کو بھرتی کیا گیا۔ انہوں نے کہا برطانوی سفارتکار اصلاح پسند صدارتی امیدوار کے انتخابی مرکز کا متعدد بار دورہ کر چکے ہیں۔"
فرانسیسی شہری کلوٹیلڈ رائس کو امسال یکم جون کو حراست میں لیا گیا۔ انہیں تہران ہوائی اڈے کی ایوین جیل میں قید رکھا گیا۔ ان پر ایرانی مفادات کے خلاف جاسوسی کا الزام تھا۔
کلوٹیلڈ ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں فرانسیسی زبان سکھانے کے ادارے میں کام کرتی رہی ہیں۔ فرانس نے کلوٹیلڈ کے اعترافی بیان کو "غلط اور بے بیناد" قرار دیتے ہوئے اپنی شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
مغربی ممالک کا کردار
انتخابی نتائج کے مخالفین کے خلاف مقدمات درحقیقت مغرب اور بالخصوص امریکا سمیت دوسرے ممالک کے ٹرائیل کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اصلاح پسندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کی دوسری پیشی کے موقع پر ایران کے پراسیکیوٹر جنرل نے امریکا، مغربی اور خلیجی ممالک پر اپنے ملک میں مخلمی انقلاب منظم کرنے کی کوششوں میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد لگایا۔ انہوں نے ان ملکوں پر الزام عائد کیا وہ اس مقصد کے لئے مختلف عناصر کو تربیت دیتے رہے ہیں۔
عدالت کے سامنے پیش ہونے والے متعدد اسیروں نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کے داخلی بحران سے متعلق خبریں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو فراہم کرتے رہے ہیں۔ چند اسیروں کا کہنا تھا کہ وہ عراق کے علاقے کردستان میں امریکی انٹیلی جنس کے افسروں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ ایک ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ سیاسی جماعتوں اور ایرانی شخصیات کو گزند پہنچانے کے مشن پر مامور رہا ہے۔
ان اقبالی بیانات میں بعض اسیروں نے دہشت گرد ایرانی حزب اختلاف مجاہدین خلق کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کس طرح کاکٹیل بموں سے سیکیورٹی اہکاروں کو ہراساں کرتے رہے ہیں اور ان کا قتل کرتے رہے ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ یورپی ممالک کے متعدد سفیر اور سفارتکار حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی سفارتخانے نے مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کے لئے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں۔
سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے بھائی محمد رضا خاتمی کا کہنا تھا کہ ان اقبالی بیانات کی کوئی قانونی وقعت نہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایران میں حزب اختلاف کی سرگرمیاں قانون کے دائرے میں ہیں۔