دنیا بھر کے ہزاروں محققین کی کنگ عبد اللہ یونیورسٹی میں شمولیت
عرب قائدین، نوبل انعام یافتہ سائنسدان افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں
امسال مملکت سعودی عرب کا قومی دن (23 ستمبر) اس حوالے سے ملکی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کہ اس روز کنگ عبد اللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کا باقاعدہ افتتاح ہو رہا ہے۔
سرزمین حجاز کے اس میگا تعلیمی منصوبے کی افتتاحی تقریب میں دنیا بھر سے تین ہزار مہمان شرکت کر رہے ہیں۔ مدعو کئے گئے مہمانوں میں دنیا کے مختلف براعظموں سے تعلق رکھنے والے ممالک کے صدور اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان نمایاں مقام رکھتے ہیں، پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے تحقیق دان طلبہ بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔
خادم الحرمین الشریفین کنگ عبد اللہ بن عبد العزیز نے متعدد عرب حکمرانوں کو یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ان میں یمنی صدر علی عبد اللہ الصالح، سوڈان کے فرمانروا عمر البشیر، قطر کے امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی، موریطانیہ کے صدر محمد ولد عبد العزیز، امیر کویت صباح الاحمد الجابر الصباح، تیونس کے صدر زین العابدین بن علی، جرمنی کے صدر ہورسٹ کولر اور چانسلر انجیلا میرکل اور پولنڈ کے صدر لیخ کازینچکی نمایاں ہیں۔
جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ یہ یونیورسٹی سائنس اور ٹکنالوجی کی تعلیم کے لئے ایک منفرد درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ جدید مادرعلمی سعودی قیادت کی سائنس اینڈ ٹکنالوجی سے متعلق قومی امنگوں کی عکاس ہو گی۔
واٹر ٹریٹمنٹ کے مشہور سائنس دان نے بتایا کہ یونیورسٹی میں نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے کے لئے نئی ٹکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صحرا کی ریت اور سورج کی شعاعوں کو جدید طریقوں سے توانائی کے ماخذ میں تبدیل کریں گے۔
سعودی نظام تعلیم میں کنگ عبد اللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی پہلی درسگاہ ہے، جہاں مخلوط تعلیم کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام کو مخلوط تعلیم کے پرچارک سعودی ماہرین تعلیم نے انتہائی مثبت اقدام قراردیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول مخلوط درسگاہ میں عورتوں اور مردوں کے مابین علمی مسابقت پیدا ہوتی ہے۔
درایں اثنا یونیورسٹی پراجیکٹ کو مکمل کرنے والی فرم "ارامکو" کے ایک سرکردہ مشیر نے کہا کہ ہماری کمپنی کے کمپاونڈ کی طرح جلد ہی اس منفرد مادر علمی میں خواتین کو ڈرائیونگ کا اپنا خواب جلد ہی حقیقت کا روپ دھارتا نظر آئے گا۔
یونیورسٹی کی اہم ذمہ داریاں

خادم الحرمین الشریفین عبد اللہ بن عبد العزیز کے نام سے موسوم یہ مادر علمی جدہ کے شمال میں بحیرہ احمر کے قریب واقع ہے۔ کنگ عبد اللہ نے 23 اگست 2006ء کو اہالیان طائف کی ایک تقریب میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے 21 اکتوبر 2007ء کو اس منصوبے کا سنگ بیناد رکھا۔
اس عظیم الشان منصوبے پر دس ارب سعودی ریال لاگت آئی۔ مملکت کی معروف تعمیراتی فرم "ارامکو" نے چھتیس ملین مربع میٹر مساحت کے اس منصوبے کو مکمل کیا۔ منصوبے کی ڈیزائنگ میں مقامی اور بین الاقوامی فرموں نے حصہ لیا۔
یونیورسٹی نے اپنے گریجویٹس کے لئے وہ تمام جدید سہولیات فراہم کی ہیں کہ جو سائنس اینڈ ٹکنالوجی کی تعلیم دینے والے دیگر عالمی معیار کے تعلیمی اداروں میں میسر ہوتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر کنگ عبد اللہ یونیورسٹی میں بعض ایسی سہولیات بھی میسر ہیں کہ جو امریکا کی بڑی بڑی جامعات میں بھی موجود نہیں۔ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم اورمتعدد قومیتوں کے طالب علم اور سٹاف کے لئے تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کر کے اس مادر علمی نے سعودی معاشرے کے کھلے پن کا عملی ثبوت فراہم کیا ہے۔
اکسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے یونیورسٹی کو جو اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ سورج کی شعاعوں کو توانائی کے نئے ذریعے کے طور پر متعارف کرانا ہے۔ نیز واٹر ٹریٹمنٹ اور صحرا کی ریت سے توانائی حاصل کرنے جیسے منصوبے اس عظیم الشان علمی منصوبے کے ذمے ہیں۔ یونیورسٹی کے تحقیقی منصوبوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان طریقوں پر غور کیا جائے کہ جن کے ذریعے صحرا میں کم جھاڑ دینے والی نباتات سے زیادہ جھاڑ کیسے حاصل کیا جائے۔
یونیورسٹی میں اعلی تعلیم کے نو پروگرام پیش کئے جائیں گے؛ ان میں اپلائیڈ میتھ، کمپیوٹر سائنس، بائیولاجیکل سائنس، کیمکل اور بائیولاجیکل انجیئرنگ، کمپیوٹر، انجیئرنگ اور ارضیاتی سائنس، الیکٹرک انجیئرنگ، انجیئرنگ اور ماحولیات، سائنس اورانجیئرنگ میٹریل اور میکینکل انجیئرنگ نمایاں ہیں۔
السویل: قومی پلان

سائنس اینڈ ٹکنالوجی سٹی کے چئرمین ڈاکٹر محمد ابراھیم السویل نے العربیۃ۔نیٹ کو بتایا کہ کنگ عبد اللہ بن عبد العزیز یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کو جدید دور کا دار حکمت بنانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ عباسی خلیفہ جعفر المنصور نے دارحکمت کے نام سے ادارے کی داغ بیل رکھی جسے بعد میں خلیفہ مامون نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے اس منصوبے کو مہمیز دی جو آگے چل کر عظیم سائنسی منصوبہ بنا۔ اس منصوبے سے وقت کے نمایاں سائنسدانوں نے اکتساب کیا۔ انہی سائنسدانوں میں الخوارزمی کا نام نمایاں ہے۔ الخوارزمی کا شمار دنیا میں میتھ کے اولین ماہروں میں ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کنگ عبد اللہ یونیورسٹی میں سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں ترقی کے لئے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر السویل نے بتایا کہ مستقبل میں یونیورسٹی کو سائنش اینڈ ٹکنالوجی کا ایک وسیع البنیاد قومی پلان تیار کرنے کا فریضہ سونپے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کنگ عبد العزیز سائنس اینڈ ٹکنالوجی پارک اور کنگ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹکنالوجی نے مفاھمت کی ایک یاداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت ٹکنالوجی پارک اور جدید مادر علمی ورکشاپس کا انعقاد کریں گے۔ ان میں سے ایک ورکشاپ ریاض جبکہ دوسری جدہ میں ہو گی۔ ان ورکشاپوں میں سائنسی تحقیق اور سائنسی تحقیق کی مینجمنٹ سے متعلق طریقوں پر غور کیا جائے گا۔
یونیورسٹی کیمپس لابی
امسال ستمبر میں یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر یونیورسٹی میں 61 قومیتوں کے 817 طالب علموں کو داخلہ دیا گیا۔ تین سو چوہتر طلبہ پر مشتمل پہلے بیج نے عملا پڑھائی شروع کر دی ہے، باقی رہ جانے والے طلبہ 2010ء کے سیشن سے تعلیمی سفر کا آغاز کریں گے۔
پہلے بیج میں داخلہ پانے والے طلبہ میں 161 کا تعلق دنیا کے بڑے بڑے صنعتی اداروں سے ہے۔ پہلے تعلیمی سال یونیورسٹی داخلے کے لئے 7187 درخواستیں موصول ہوئیں۔ پہلے بیج میں داخلہ حاصل کرنے والوں میں سعودی عرب کے طلبہ کی سب سے بڑی تعداد ہے جو کل داخلوں کا پندرہ فیصد بنتی ہے۔ چینی طلبہ چودہ فیصد، میکسیکو سے گیارہ فیصد جبکہ امریکا سے آٹھ فیصد طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔
یہاں ابتدائی طور پر نو شعبوں میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جاتی ہے۔
سنہ دو ہزار نو کے افتتاحی بیج میں چوالیس طلبہ نے پی ایچ ڈی کے لئے رجسٹریشن کرائی ہے جبکہ تین سو تیس طالب عملوں نے مختلف شعبوں میں ایم اے کی کلاسوں میں داخلہ لیا ہے۔ امسال سب سے زیادہ داخلے کمپیوٹر سائنس (21 فیصد)، کیمیکل اور بائیولوجیکل انجیئرنگ (13.1 فیصد)، الیکٹریک انجیئرنگ (12 فیصد) جبکہ میکینکل انجیئرنگ میں (10.4 فیصد) کی شرح سے ہوئے ہیں۔
الغامدی: سیم کے بحران کا خاتمہ

ادھر دوسری جانب کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں واٹر ریسرچ سینٹر کے ڈاکٹر عبد اللہ الغامدی نے العربیۃ۔نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنگ عبد اللہ یونیورسٹی اپنی بین الاقوامی حیثیت کے حوالے سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ جامعہ میں پوری دنیا سے پروفیسر تعلیم دینے آئے ہیں جبکہ یہاں پر دوسرے ملکوں کے طلبہ کے لئے بھی تعلیم کے دروازے کھلے ہیں۔ اس یونیورسٹی نظریاتی بحثوں کے بجائے تمام تر توجہ اعلی تعلیم اور مختلف سائنسی علوم کی تحقیق پرمرکوز ہے۔
ہمیں اس وقت ایسی ہی عملی تعلیم کی ضرورت ہے، یقینا اس مقصد کے لئے ہمیں مالی مدد بھی درکار ہے۔ آئندہ چل کر جامعہ میں ہونے والی تعلیمی تحقیق ہماری آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب اور تیسری دنیا کی جامعات کی سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ ان کے پاس تحقیق کے لئے فنڈز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں کام کرنے والی جامعات میں کام کرنے کی زیادہ آزادی ہوتی ہے کیونکہ لگے بندھے حکومتی نظام کی وجہ سے بہت سے معاملات تاخیر کا شکا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنگ عبد اللہ یونیورسٹی سعودی عرب کی دوسری جامعات سے اس حوالے سے منفرد ہے کہ یہاں پر گریجویشن کے بجائے صرف اعلی تعلیم پر توجہ مرکوز ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا یہ صورتحال اقتصادی صورتحال پر اثر انداز ہوتی ہے، میری مراد یہ ہے کہ اقتصاد معرفت ہے، ہمارے پاس اگر یہ معرفت موجود ہے تو ہم کچھ تیار کر سکتے ہیں اور اسی مہارت اور علم کو دوسروں کے ہاں فروخت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا مملکت سعودی عرب کو سیم کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہمیں میڈیکل کے شعبے میں ایسی مہارت درکار ہے۔
مسٹر الغامدی نے کہا کہ یونیورسٹی نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے کے جدید طریقے تلاش کرنے کے منصوبوں پر کام کرے گی۔ ہمیں سعودی عرب میں پانی کی قلت کا سامنا ہے اور پانی صاف کرنے کے موجودہ طریقے کافی مہنگے ہیں، ان کی مسلسل مرمت ضروری ہے۔ ہم نے اس ضمن میں اگر کوئی نئی ٹکنالوجی متعارف کرائی تو یقینا اس کے اثرات مملکت کی اقتصادی اور معاشرتی حالت پر پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صحرا کی ریت سے کمپیوٹر چپس تیار کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ ان کی تیاری میں سلیکون درکار ہوتا ہے۔ یہ سلیکون ریت سے حاصل ہوتا ہے، ہمارے ہاں اس کی بہتات ہے۔ ہمارے پاس تین چیزیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ سورج، ریت اور سمندر اقتصادیات اور ٹکنالوجی کی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ سورج سے شمسی توانائی، صحرا کی ریت سے کمپیوٹر چپس تیار کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ یونیورسٹی میں تحقیق کرنے والے اور فکلیٹی ممبران کو کمال درجے کی اکیڈیمک آزادی حاصل ہے۔ یونیورسٹی کمیپس اور دیگر ریسرچ سینٹرز میں ندرت فکر کے مظہر جدید آلات موجود ہیں۔
مخلوط تعلیم
معروف سعودی ماہر تعلیم اور ظہران کی پٹرول اورمعدنیات یونیورسٹی میں طلبہ امور کے سابق نگران ابراھیم عباس نتو نے کنگ عبد اللہ یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کو خوش آئند امر قرار دیا ہے۔
العربیۃ۔نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا مخلوط تعلیم کا اکیڈیمک ماحول پر انتہائی مثبت اثر پڑے گا۔ اکیڈیمک لیول پر ریسرچ اور مقالہ جات کی اشاعت میں صحت مند مقابلے کی فضا پیدا ہو گی۔
خواتین اور مرد حضرات کے درمیان مقابلے کی صورت میں یہ چیزیں مثبت تعلیمی ماحول کے فروغ کا باعث بنیں گی۔ میری خواہش ہے کہ یونیورسٹی مخلوط تعلیم کا احسن نمونہ بنے کیونکہ اختلاط کے کلچر کو فروغ نہ دینے کے نتیجے میں اجتماعی علیحدگی کی راہ زیادہ پختہ ہوتی ہے۔
ارامکو ۔۔۔ دو ثقافتوں کا ملاپ

کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کا عظیم الشان منصوبہ مکمل کرنے والی تعمیراتی فرم ارامکو کے مشیر اور انجیئر عبد الرحمن الربیش کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی بنایا اہم بات نہیں بلکہ ان اداروں کے ذریعے اہل سعودی شہریوں کی ذہن سازی اصل کام ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کی صورت میں ان کے آئیڈیاز انتہائی مقبول ہوں گے کیونکہ ہمارے معاشرے تنگ نظری کا مظہر رہےہیں۔ ہم اگر اپنی جامعات میں غیر ملکی طلبہ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس میں صرف پانچ فیصد غیر ملکی ہیں جبکہ امریکا یا دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں ایک عالمگریت نظر آئے گی۔
ارامکو نے اس یونیورسٹی کے لئے باقی تعلیمی اداروں سے مختلف سوچ پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے، ہم نے اہل اساتذہ اور طلبہ کو بغیر کسی تعصب کے اپنے ہاں کام کا موقع فراہم کیا ہے۔ سعودی معاشرے میں یہ ایک نئی سوچ ہو گی کیونکہ دو مختلف کلچر کے لوگ ایک ہی چھت تلے زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں علمی اور تحقیقی کام کر رہے ہوں گے۔
ارامکو نے اپنا کردار ادا کر دیا، مستقبل میں یونیورسٹی سے ہمارا رابطہ محدود ہو گا۔ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ ہم نے ایک عالمی درسگاہ کا آئیڈیا متعارف کرایا ہے، جس کا پہلے وجود نہیں تھا۔
الربیش نے بتایا کہ ہم نے عالمگریت کی جس سوچ کو راسخ کرنے کی کوشش کی ہے، یہ اسی کی برکت ہے کہ اس یونیورسٹی میں ستر قومیتوں کے طلبہ اکتساب علم کو آئے ہیں، متفرق ثقافی پس منظر کے حامل یہ افراد یقینا سعودی معاشرے کو وہ سب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ جو اس وقت سعودی عرب کے پاس نہیں
انہوں نے کہا سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں مرد و زن کی تفریق کوئی نیا آئیڈیا نہیں، محدود پیمانے پر میڈیکل کالجوں میں مخلوط تعلیم موجود ہے تاہم کنگ عبد اللہ یونیورسٹی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں خواتین اعتماد کے ساتھ تدریس اور تعلم کے لئے اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا ارامکو مملکت سعودی عرب میں ترقی کا ایک استعارہ ہے۔ کمپنی کے کیمپلکس میں خواتین گاڑی چلا سکتی ہیں، مجھے اس بابت کوئی علم نہیں کہ اس منفرد تعلیمی منصوبے کی حدود میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ہو گی یا نہیں؟ تاہم میری ذاتی خواہش ہے کہ ایسا جلد ہو۔
مساجد و تسبیح
یاد رہے کہ یونیورسٹی تخلیق کے لئے ساز گار ماحول بھی فراہم کرتی ہے، اس میں نماز ادا کرنے والوں کے لئے مسجد موجود ہے۔ اللہ کی تسبیح بیان کرنے والوں کو یہاں تسبیح بھی ملے گی۔ پیراکی کے شوقین افراد کے لئے سوئمنگ پول موجود ہیں۔ بچوں کے لئے نرسری، ڈے کیئر اور پری سکول کی سہولت بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں کیمپس میں ریستوران، گالف اور ٹنیس کورٹ بھی موجود ہیں۔
یونیورسٹی کا پرشکوہ کیمپس پچیس عمارتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں چار عمارتوں میں پانچ سو مربع میٹر پر محیط تحقیقی سینٹرز ہیں۔ کیمپس میں بغیر کسی خلل کے بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے بڑے بڑے سٹینڈ بائی جنریٹرز ہیں جن پر پورے عمارت کا ائر کنڈیشنگ نظام بھی چل سکتا ہے۔
کیمپس کے اندر عمومی تعلیم کے لئے پانچ سکول اور ایک بین الاقوامی مدرسہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ کیمپس سٹی کی طبی ضرورتوں کے لئے ایک ہسپتال موجود ہے۔ ساحل سمندر سے قربت کی وجہ سے کیمپس میں ایک بحری پارک بھی بنایا گیا ہے۔ اسی مدینہ العلم میں قدیم اور جدید طرز تعمیر کا حسین امتزاج دو مساجد بھی بنائی گئی ہیں جس میں ایک مسجد میں پندرہ سو جبکہ دوسری میں پانچ سو نمازی ادا کر سکتے ہیں۔
ابتک کنگ عبد اللہ یونیورسٹی متعدد تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مفاھمت کی یاد گار پر دستخط کر چکے ہیں ان میں "وڈز ہول ادارہ برائے سمندری علوم" فرینچ پیٹرول انسٹی ٹیوٹ، نیشنل یونیورسٹی سینگاپور، ہانگ گانک یونیورسٹی برائے سائنس اور ٹکنالوجی، امریکن یونیورسٹی قاہرہ، ٹیکنیکل یونیورسٹی میونخ، کنگ فہد یونیورسٹی آف پٹرول اور معدنیات اور سان دی گو میں کیلیفورنیا یونیورسٹی شامل ہیں۔
اس منفرد تعلیمی منصوبے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے نجی شعبے میں عالمی معیار کی مختلف کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔ فی الوقت جامعہ نے جنرل الیکٹریک گلوبل کے مرکز تحقیق، عبد العزیز سٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی، ارامکو کمپنی سعودی عرب اور آئی بی ایم سے تعلیم و تحقیق کے لئے شراکتی معاہدے کر رکھے ہیں۔