اسلام آباد ۔ العربیۃ۔نیٹ
پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہفتہ اور اتوار کے روز ساٹھ مشتبہ جنگجوہلاک اور چھے فوجی شہید اور گیارہ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج کو لڑائی میں شکست دی جائے گی.
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقوں جنڈولہ، کوٹ کائی، سروروغہ ، مندانہ، کنڈ اور تاراکائی کو محفوظ بنا لیا گیا ہے، ان علاقوں میں تیس طالبان جنگجو ہلاک مارے گئے ہیں جبکہ دو جوان شہید اور چارزخمی ہوئے۔ شکائی، کانی گورم اورلدھا کے مقام پرسات کلومیٹر کے علاقے کو محفوظ بنا لیا گیاہے.
بیان کے مطابق شیروانگی کے علاقے میں بدستور لڑائی جاری ہے۔ شیروانگی کے علاقے میںبیس مشتبہ جنگجوہلاک، ایک جوان شہید اور تین زخمی ہوگئے۔ رزمک کے قریب اہم پہاڑیوں پر شدت پسندوں سے قبضہ چھڑا لیا گیا، کارروائی میںدس شدت پسند ہلاک، دو جوان شہید اور چار اہلکار زخمی ہو ئے تھے۔ شدت پسندوں کی چھے اینٹی ایئرکرافٹ گن پوزیشنوں کو تباہ کر دیا گیا، ووزی سارکےعلاقے میں ایک گن پوزیشن محفوظ بنا لی گئی جبکہ شدت پسندوں کے زیراستعمال بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بر آمد ہوئی ہیں۔
پاک فوج نے کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے زیر استعمال کئی گاڑیاں بھی تباہ کردی ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت سے شدت پسند اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ اپنے مقامات چھوڑ رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسزکے اہلکار سرچ آپریشن کے دوران علاقہ محفوظ بنا رہے ہیں، عام لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں عام لوگ سفید جھنڈے لہرا کر اپنے آپ کو سرچ کے بعد کلیئر کرا رہے ہیں۔
عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ لدھا، مکین اور نواز کوٹ کے علاقوں میں جیٹ طیاروں سے بمباری بھی کی جا رہی ہے جس میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے .سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کردیئے۔اطلاعات کے مطابق بعض علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو مشکلات کا سامنا ہے.پاک فوج نے ہفتہ کی رات طالبان جنگجوٶں کے ٹھکانوں پر بڑا حملہ کیا تھا۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان اعظم طارق نے کسی نامعلوم مقام سے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے،ہم اپنے علاقے کا تحفظ کریں گے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ ایسی جنگیں کیسے لڑی جاتی ہیں،ہم کم سے کم جانی نقصان سے کامیابی حاصل کریں گے''.
 |
ہزاروں افراد مہاجر جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑکر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں جبکہ حکومت پاکستان ایک بار پھر عالمی امدادی اداروں کی جانب دیکھ رہی ہے۔
ممکنہ طورپراگلے دو ماہ تک جاری رہنے والے فوجی آپریشن کے اقتصادی اثرات سوات آپریشن سے بھی زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں ۔ اِس آپریشن کی وجہ سے بچے کھچے مقامی افراد کو خاصی تکالیف کا سامنا ہے۔ چھوٹے بڑے راستے فوجی کی نگرانی میں ہیں اور وہ عام شہریوں آمد ورفت کے لئے بند ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کرفیو بھی لگا رکھا ہے.
اِن راستوں کو فوج اپنے دستوں اور اسلحے کو مرکزی جنگی علاقوں تک پہنچانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔رسد میں کمی بیشی کا بہر حال فائدہ طالبان کو پہنچے گا اور فوجی آپریشن کے کمانڈر اِس سے آگاہ ہیں۔ پورے علاقے میں کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے اپنے گھروں میں رہ جانے والے پریشان حال افراد کی نقل وحرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اِس ساری صورت حال میں زخمیوں کی حالت بہت خراب ہونے کا امکان ہے کیونکہ کرفیو اور نقل و حمل محدود ہونے کی وجہ سے اِن کا بروقت کسی طبی مرکز تک پہنچایا جانا مشکل ہوگا. |
