پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
منگل 01 ذو القعدة 1430هـ - 20 اکتوبر 2009م

اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں دو خودکش بم دھماکے،06 افراد جاں بحق

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر رہے ہیں
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر رہے ہیں
 

اسلام آباد.العربیہ.ایجنسیاں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں منگل کی سہ پہر دو خودکش بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں تین طالبات سمیت چھے افراد جاں بحق اور پچیس طالبات سمیت کم سے کم چالیس افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ مزید ممکنہ خودکش حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ہیں.

پہلا خودکش بم دھماکا یونیورسٹی کے شریعہ بلاک میں ہوا جبکہ دوسرے حملہ آور نے اس دھماکے کے چند ہی منٹ بعد گرلز ہاسٹل کے قریب واقع کیفے ٹیریا میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد کے مطابق دھماکوں میں تین طالبات اور دوطلبہ سمیت چھے افراد جاں بحق جبکہ پچیس طالبات سمیت اڑتیس افراد زخمی ہوئے ہیں.

اسلام آباد کے سنئیر سپرنٹینڈنٹ پولیس طاہر عالم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں بم دھماکے خودکش حملوں کا نتیجہ تھے. اسلامی یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے سے شریعہ بلاک کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز اسپتال میں انتیس زخمیوں کو پہنچایا گیا ہے، جن میں چوبیس طالبات اور پانچ طلبہ شامل ہیں، زخمیوں میں سے سات افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے.

پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسپتال میں ایک ٹانگ بھی لائی گئی ہے جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی کہ وہ کسی زخمی کی ہے یا کسی جاں بحق ہونے والے شخص کی ہے. دوسری جانب پولیس نے طالبات کے کیفے ٹیریا کے قریب ایک شخص کو مشکوک حرکات وسکنات پر گرفتار کر لیا ہے۔

بم دھماکوں کے فوری بعد طلبہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی گاڑیوں میں زخمیوں کو اسپتال پہنچایا اور ایمبولینس گاڑیاں کچھ دیر کے بعد یونیورسٹی میں پہنچی تھیں.پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور وہاں سے شواہد جمع کر لئے ہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے قریباً دوہزار طلبہ اور طالبات بھی زیرتعلیم ہیں.یونیورسٹی میں خودکش بم دھماکوں سے قبل جنگجو ملک کے مختلف شہروں میں گذشتہ پندرہ روز کے دوران چھے بڑے حملے کرچکے ہیں اورجنوبی وزیرستان میں جنگجوٶں کے خلاف پاک فوج کی کارروائی کے بعد یہ پہلا حملہ ہے.جامعہ اسلامیہ العالمیہ پر خودکش حملوں کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی .تاہم طالبان اورالقاعدہ سے وابستہ جنگجوٶں نے گذشتہ دوسال سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اورعام شہریوں کے خلاف خودکش بم دھماکوں اور کمانڈوحملوں کی مہم شروع کررکھی ہے جس کے دوران دوہزاردوسوپچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں.

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں خودکش بم دھماکوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی بزدلانہ اور گھناونی کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جاسکتا۔ صدر زرداری نے اپنے الگ بیان میں کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کا پختہ عزم رکھتی ہے اور اس قسم کی گھناونی کارروائیوں سے حکومتی عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں دہشت گردی کی کارروائی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ان کے مکمل خاتمہ تک جاری رہے گا۔ ایک بیان میں انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکنہ بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔

واپس اوپر

تعلیمی اداروں کی بندش

اسلامی یونیورسٹی میں بم دھماکے کے بعد امن وامان کی صورتحال اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں تمام سرکاری ونجی تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں اور امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.

صوبہ سندھ ، بلوچستان سرحد اور اسلام آباد میں تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اتوار تک بند رہیں گے ، جبکہ پنجاب کے تعلیمی ادارے تا حکم ثانی بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ فضل الرحمنٰ نے اعلان کیا ہے کہ سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولز اور کالجز بدھ سے اتوار تک بند رہیں گے .گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اعلان کیا ہے کہ سندھ کی تمام سرکاری و نجی جامعات بدھ کو بند رہیں گی۔

اسلامی یونیورسٹی میں بم دھماکوں کے بعداسلام آباد کی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی ادارے فوری طورپربند کردئیے گئے اورہاسٹلوں میں مقیم طلبہ اور طالبات کوچلے جانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ عسکری اداروں.....آرمی،بحریہ اور فضائیہ........ کے تحت تعلیمی ادارے پہلے ہی خودکش حملوں کے پیش نظر گذشتہ سوموار سے ایک ہفتے کے لئے بند کئے جاچکے ہیں.

اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ بدھ کو کیا جارہا ہے تاہم وفاقی نظامت تعلیمات نے اپنے ماتحت اداروں کو اتوار تک بند کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے.وفاقی دارالحکومت میں نجی اداروں نے پہلے ہی طلبہ وطالبات کو جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے ردعمل میں خودکش حملوں کے خطرے کے پیش نظر ایک ہفتے کے لئے چھٹیاں دے رکھی ہیں.

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: