اسلام آباد ۔ العربیۃ۔نیٹ
سوڈان میں اقوام متحدہ امن مشن کے سربراہ اور پاکستان فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو میں ملڑی آپریشنز کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈئر معین الدین احمد اور ان کے ڈرائیور کو نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی صبح اسلام آباد میں اپنے گھر سے دفتر جاتے ہوئے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے۔
شہید ہونے والے اعلی فوجی افسر کے زخمی گارڈ کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح اسلام آباد کے سیکٹر G-11/1 کی گلی نمبر پانچ میں اس وقت پیش آیا جب بریگیڈئر معین الدین فوجی اہلکاروں کے ہمراہ اپنے دفتر کے لئے جا رہے تھے۔
مقامی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے ۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ فوجی گاڑی میں تین اہلکار سوار تھے اور اس پر مختلف سمت سے فائرنگ کی گئی۔
اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے کہ بریگیڈئیر معین کے قتل کا واقعہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ لگتا ہے لیکن اس کے حتمی محرکات کا پتا تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا.بریگیڈیئر معین الدین سوڈان میں اقوام متحدہ امن مشن کے تحت تعینات تھے.وہ چند روز قبل ہی پاکستان واپس آئے تھے اور دو روز بعد انہیں واپس اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے سوڈان روانہ ہوناتھا۔
سیکٹر جی الیون ون ایک گنجان آباد علاقہ ہے، جس کے ایک طرف کشمیر ہائی وے اور دوسری جانب گولڑہ کا نواحی علاقہ واقع ہے، جہاں زیادہ تر کچی آبادیاں واقع ہیں۔ یاد رہے کہ دو روز قبل اس علاقے سے دو کلومیٹر دو سیکٹر H-10 میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں دوہرے خودکش حملوں میں آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
سیکٹر جی الیون ریڈ زون سے باہر ہے لیکن ایک روز پہلے ہی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان علاقوں تک حفاظتی انتظامات بڑھانے کا حکم دیا تھا۔ جی الیون ون کے قریب پولیس کا ناکہ بھی ہے۔کچھ ہی دن پہلے اسلام آباد میں سیکورٹی کی ذمہ داریاں رینجرز کے حوالے کر دی گئی تھیں۔
 |
آپریشن راہ نجات وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے طالبان جنگجوٶں کے خلاف جاری آپریشن ”راہ نجات“ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید چوبیس دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار شہید اور چار زخمی ہو ئے ہیں۔
جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طالبان جنگجوٶں کے کئی بنکرزتباہ کرکے جنوبی وزیرستان کے علاقہ تورغنڈئی کومحفوظ بنالیاگیاہے۔ اس علاقہ میں تیرہ دہشت گردوں کوہلاک کیاگیا۔میزووام کے علاقہ کومکمل طور پر محفوظ بنانے کے بعدسکیورٹی فورسز کی شیشم وام کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔شکئی لدھا کی جانب سے شیرونگئی میں سکیورٹی فورسزکنٹرول حاصل کررہی ہیں جبکہ اس مقام پر گرگراسرکو محفوظ بنالیا گیاہے۔
شیرونگئی میں بویانارائی کے مقام پر جنگجوٶں نے سکیورٹی فورسز پرحملہ کیااورجوابی کارروائی میں گیارہ مارے گئے،ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اورتین زخمی ہوگئے۔سکیورٹی فورسز نے توروام سے شیرونگئی تک سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں۔
آئی ایس پی آرکے مطابق سکیورٹی فورسز نے لدھا کے راستے کے اہم پل توروام کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیاہے۔ جنوبی وزیرستان کے اہم مقام رزمک میں سکیورٹی فورسز اپنی پوزیشن مستحکم کررہی ہیں.اس سلسلہ میں مکین کی طرف سے آنے والی سڑکوں کو بلاک کردیا گیاہے۔رزمک کیمپ پر شدت پسندوں نے بدھ کی رات چھےراکٹ فائر کئے جس سے ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔
ادھرمالاکنڈ ڈویژن میں جاری آپریشن راہ راست میں ایک کارروائی کے دوران بانپورسرکے مقام پرجنگجوٶں کے ایک کمانڈراقبال عرف اسلام کو ہلاک کردیا گیاہے جبکہ سکیورٹی فورسزنے بھاری مقدارمیں اسلحہ بھی برآمدکیاہے۔سوات کے مختلف علاقوں سے نوشدت پسندگرفتارکرلئے گئے ہیں جبکہ دو شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے. |
 |
مشکوک شخص کی گرفتاری درایں اثناء اسلام آباد میں پولیس نے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کرلیا ہے، اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی جس میں سے گولیاں برآمد ہوئی ہیں.
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن سے پولیس نے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کیا ہے ،جس کی تلاشی لینے پرپتا چلا کہ اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی ہے، ضعیف العمر اور باریش ملزم کا نام بلال بتایا گیا ہے.ملزم کی جیکٹ سے بڑی تعداد میں آتشیں بندوقوں میں استعمال ہونے والی گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔
پولیس نے ملزم کے ہاتھ باندھ کراسے سخت سکیورٹی میں رکھا ہوا تھااورجیکٹ اتارنے کیلئے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا گیا ، جبکہ پولیس کے سینئرافسراس سے تفتیش کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملزم پبی سے آرہا تھا اور اس نے گولیاں کسی اسلحہ ڈیلر کو پہنچانا تھیں لیکن وہ اپنی مشکوک حرکات کی وجہ سے پکڑا گیا ہے. |
