اسلام آباد.العربیہ.نیٹ،ایجنسیاں
پاکستانی فورسز نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جنگجوٶں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے گاٶں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ شمال مغربی علاقے باجوڑ میں امریکی ڈرون کے میزائل حملے میں بائیس افراد مارے گئے ہیں.
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ایک سرکاری عہدے دار محمد جمیل نے بتایا ہے کہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے مقامی طالبان کمانڈر مولوی فقیر محمد کے ایک ٹھکانے کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے جس میں بائیس مشتبہ جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں.
ذرائع کے مطابق ڈمہ ڈولہ کے علاقے چوہتڑہ میں مقامی طالبان کے ٹھکانے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں ہلاک ہونے والوں میں بعض افغان شہری اور غیر ملکی بھی شامل ہیں. زخمیوں میں متعدد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے.حملے میں مولوی فقیر محمد بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں.
ادھر عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن راہِ نجات کے دوران ہفتہ کے روز پانچ دن کی شدید لڑائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے گاٶں کوٹکئی پر قبضہ کر لیا ہے.آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹرز، جیٹ طیارے اور زمینی دستے حصہ لے رہے ہیں۔
کوٹکئی پر قبضے کے لئے ہونے والی لڑائی میں تیرہ جنگجو ہلاک اور دو فوجی شہید ہوئے ہیں.پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے فراہم کردہ اعداد و شمارکے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے جاری کارروائی میں ہلاک ہونے والے جنگجوٶں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہو گئی ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔
سکیورٹی عہدے داروں نے بتایا ہے کہ پاک فوج کے جوانوں نے طالبان جنگجوٶں کے ایک اہم گڑھ کوٹکئی پر قبضے کے بعد تلاشی کی کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے جو جنگجو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے.سکیورٹی فورسز طالبان جنگجوٶں کی جانب سے علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی صاف کر رہے ہیں.
کوٹکئی خود کش بمباروں کے استاد اور سنئیر طالبان کمانڈر قاری حسین محسود کا بھی آبائی گاﺅں بتایا جاتا ہے۔ کوٹکئی پر قبضے کے بعد اب فورسز کے لئے جنگجوٶں کے ایک اور مضبوط گڑھ سراروغہ کی جانب پیش قدمی آسان ہو گا. جنوبی وزیرستان میں اس وقت اٹھائیس ہزار فوجی قریباً دس ہزار طالبان جنگجوٶں کے خلاف ''آپریشن راہ نجات'' میں حصہ لے رہے ہیں جن میں ایک ہزار سخت گیر ازبک جنگجو بھی ہیں.ان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے بعض عرب جنگجو بھی شامل ہیں.
